مضامین بشیر (جلد 1) — Page 530
مضامین بشیر ۵۳۰ حضرت مسیح موعود کی نظر میں حضرت مولوی صاحب کا مقام حضرت مولوی صاحب مرحوم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے قدیم ترین صحابہ میں سے تھے۔کیونکہ جیسا کہ وہ اکثر خود فرمایا کرتے تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں بھی اس کا ذکر موجود ہے انہوں نے بالکل اوائل زمانہ میں بیعت کی تھی۔یعنی اعلان بیعت کے بعد پہلے سال میں ہی یعنی ۱۸۸۹ء میں اس سعادت سے مشرف ہو گئے تھے۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی تصنیف ازالہ اوہام میں جو ۱۸۹۱ء میں شائع ہوئی تھی اپنے اخبار کی ذیل میں ان کا ذکر کیا ہے اور ان کی تعریف فرمائی ہے اس کے بعد تین سو تیرہ صحابیوں کی فہرست میں بھی جو ۱۸۹۶ء میں ایک خاص پیشگوئی کی بنا پر بطور نشان تیار کرائی گئی تھی ، ان کا ذکر خیر موجود ہے اور پھر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنے بچوں کی شادی کی تجویز فرمائی تو خاکسار راقم الحروف کی شادی کے لئے حضرت مولوی صاحب مرحوم کی ایک صاحبزادی کو منتخب فرما کر گویا انہیں اپنے خاندان کے ساتھ منسلک فرما لیا اور بالآخر جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سلسلہ کے بعض مرکزی کاموں کو سرانجام دینے کے لئے ۱۹۰۶ ء میں صدرانجمن احمدیہ کی بنیا درکھی تو جن چودہ اصحاب کو اس انجمن کی ممبری کے لئے جماعت میں سے منتخب کیا گیا ان میں حضرت مولوی صاحب موصوف بھی شامل تھے۔حضرت مولوی صاحب کی ایک اور خصوصیت ان خصوصیات کے علاوہ جن کی قدر و قیمت مرورِ زمانہ کے ساتھ یقیناً بڑھتی چلی جائے گی ، حضرت مولوی صاحب کو یہ خصوصیت بھی حاصل تھی کہ وہ صوبہ سرحد میں گویا احمدیت کے ہراول دستہ کے قائد اور لیڈر تھے جن کے ذریعہ نہ صرف پشاور اور اس کے گردونواح کے بہت سے لوگوں نے حق کو قبول کیا بلکہ درہ خیبر کے رستہ آنے جانے والے باشندگان افغانستان میں بھی احمدیت کا نفوذ ہوا۔حضرت مولوی صاحب کا یہ ایک خاص اور نمایاں وصف تھا کہ ان کا دستر خوان نہ صرف دوستوں کے لئے بلکہ تمام آنے جانے والوں کے لئے خواہ وہ اپنے ہوں یا بیگانے بڑے ہوں یا چھوٹے ہمیشہ کھلا رہتا تھا۔حتی کہ ان کی آمدنی کا بیشتر حصہ مہمان نوازی میں خرچ ہو جاتا تھا اور چونکہ حضرت مولوی صاحب کو اوائل زمانہ سے ہی قرآن شریف اور حدیث کے درس تدریس کا شوق تھا۔اس لئے اس شوق نے مہمان نوازی کے خلق کے ساتھ مل کر حضرت مولوی صاحب کے لئے تبلیغ کا ایک