مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 525 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 525

۵۲۵ مضامین بشیر اور بداعمالی کے نتیجہ میں ہوا کرتا ہے اور یہ بداخلاقی اور بد اعمالی باہر سے نہیں آتی بلکہ خو د قوموں کی پنی ترقی کے نتیجہ میں پیدا ہوتی ہے۔عروج کے زمانہ میں لوگ ست ، کا ہل ، عیش پرست ، آرام طلب، متکبر ، ظالم ، بد اعمال ، خائن ، دین کی طرف سے غافل ، دنیا کی لذتوں میں منہمک ہو جاتے ہیں اور اسی میں ان کی تباہی کا بیج مخفی ہوتا ہے۔یہ وہ دوسرا خطرہ ہے جس کی طرف قرآن شریف اس مختصر مگر حکمت سے پُر اور دانائی سے لبریز لفظ میں توجہ دلاتا ہے۔کہ استغفرہ یعنی جب تم پر ترقی کا زمانہ آوے تو ان بدا خلاقیوں اور بداعمالیوں کی طرف سے ہوشیار رہنا جو عروج کے زمانہ میں رونما ہو ا کرتی ہیں اور اپنے واسطے خدا کی حفاظت اور مغفرت کے طالب ہونا تا کہ تمہاری ہر گھڑی اس کے سایہ میں گزرے اور اگر تم کبھی لغزش بھی کھاؤ تو اس کی کریما نہ بخشش تمہیں بچانے کے لئے موجود ہو۔یہ وہ دو عظیم الشان خطرے ہیں جن کی طرف خدا تعالیٰ نے ان دو مختصر الفاظ میں ہمیں توجہ دلائی ہے اور الفاظ ایسے چنے ہیں کہ وہ صرف بیماری ہی کی طرف اشارہ نہیں کرتے بلکہ ساتھ ہی علاج بھی بتا رہے ہیں۔اللہ اللہ ! قرآن شریف کیسی کامل و مکمل کتاب ہے کہ ان دو چھوٹے سے لفظوں میں کتنا وسیع نقشہ کھینچ کر رکھ دیا ہے۔گویا روحانی عالم میں علم التشخیص اور علم اصلاح کے دو وسیع مضمونوں کو دو مختصر لفظوں میں محصور کر کے ہمارے واسطے بے نظیر رحمت اور ہدایت کا سامان بہم پہونچا دیا ہے۔فرماتا ہے کہ جب فتح و نصرت کا زمانہ آئے اور لوگ فوج در فوج خدائی سلسلہ میں داخل ہونا شروع ہوں تو سبـح بــحــمــدر بک و استغفرہ اس وقت تم اس ترقی کو خودا اپنی کوشش کی طرف منسوب کر کے خدا کی ناشکری نہ کرنا بلکہ خدا ہی کی حمد کے گیت گانا جس نے تمہارے لئے ترقی کا رستہ کھولا ہے۔اور پھر جو بداعمالیاں عموماً ترقی کے ساتھ ہوا کرتی ہیں ان کی طرف سے ہوشیار رہ کر خدا کی حفاظت اور مغفرت کے طالب رہنا۔اگر تم ان دو باتوں کا خیال رکھو گے تو فرماتا ہے کہ انـه گـان تواباً۔یعنی پھر تم خدا کو بار بار جھکنے والا بار بار رحم کرنے والا پاؤ گے۔یعنی پھر ایسا نہ ہو گا کہ تمہاری کمزوری کے زمانہ میں تو خدا تم پر رحم کرے اور طاقت کے زمانہ میں تمہیں چھوڑ دے بلکہ اس صورت میں وہ تمہارے عروج کے زمانہ میں بھی تمہارا اسی طرح خبر گیر رہے گا جس طرح کہ وہ کمزوری کے زمانہ میں رہا ہے۔یہ وہ مضمون ہے جس کی طرف میری توجہ ملتوی ہوئی۔اور میرے دل میں خیال آیا کہ جس طرح اسلام کے ابتدائی زمانہ میں ہوا اسی طرح احمدیت میں بھی ہونے والا ہے یعنی احمدیت کے سامنے بھی ترقی کے زمانہ کے یہی دو خطرے ہیں اور ان خطروں کے یہی دو علاج ہیں۔جو اس مخی مختصر سورۃ کے ان دو مختصر لفظوں میں بیان کئے گئے ہیں۔کہ سبح بحمد ربک و استغفرہ اور پھر جو