مضامین بشیر (جلد 1) — Page 526
مضامین بشیر ۵۲۶ قوم اس علاج کو اختیار کرے گی اس کے لئے یقیناً وہی از لی تقدیر مقدر ہے۔جوانـه كـان توابا کے لفظ میں مرکوز ہے۔تو اب کے معنے جیسا کہ اوپر بیان کئے گئے ہیں بار بار جھکنے اور بار بار رحم اور شفقت کا سلوک کرنے کے ہیں۔گویا اس صورت میں خدا کا سلوک اس محبت کرنے والی ماں کی طرح ہوگا جو صرف ایک دفعہ اپنے بچہ کو پیار کر کے نہیں چھوڑ دیتی بلکہ اپنی مامتا کے جوش میں اس کی طرف بار بار جھکتی اور بار بار پیار کرتی ہے اور پھر بھی سیر نہیں ہوتی۔اللہ اللہ ! ہمارے خدا کی محبت کس اتھاہ سمندر کی طرح ہے جس کا کوئی کنارہ نہیں اور نہ اس کی گہرائی کی کوئی حد ہے۔وہ ترقی کا مادہ پیدا کرتا ہے۔ترقی کا سامان بہم پہنچاتا ہے۔تنزل کے خطرات سے آگاہ کرتا ہے۔ان خطرات کا علاج بتا تا ہے اور پھر کیا مزے سے کہتا ہے کہ اگر ان باتوں کو اختیار کرو گے تو ہم تم سے نہ صرف پیار کریں گے بلکہ پیار کرتے ہی چلے جائیں گے۔سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم سبحان الله وبحمده سبحان الله العظيم سبحان الله وبحمده سبحان ا وبحمده سبحان الله العظيم۔مگر جہاں یہ مضمون میرے ذہن میں آیا ، وہاں میرے دماغ میں ایک اور بات بھی بجلی کی طرح کو ند گئی اور میں ضروری سمجھتا ہوں کہ اس مضمون میں اس کی طرف بھی مجملاً اشارہ کر دوں تا کہ دوستوں کو دعا کی طرف توجہ پیدا ہو۔حدیث میں آتا ہے کہ جب سورۃ نصر نازل ہوئی۔تو عام صحابہ تو اس کے الفاظ میں زمانہ ترقی کی آمد آمد کی خبر پا کر خوش تھے کہ اب ہمارے لئے ایک نئے دور کا آغاز ہونے والا ہے۔مگر خاص اور فہیم صحا بہ اس خوشی کے ساتھ ساتھ اس غم اور کرب میں بھی مبتلا ہو گئے کہ یہ خوشی کی خبر اپنے اندر ہمارے پیارے رسول کی وفات کی طرف بھی اشارہ کر رہی ہے۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ جب حضرت عمرؓ نے حضرت ابن عباس کا جو بالکل نوجوان تھے بڑی بڑی عمر کے سابق بالایمان صحابہ کے مطابق وظیفہ مقرر کیا تو اس پر بعض صحابہ کو اعتراض ہوا کہ کیوں ایک بچہ کو ایسے ایسے بزرگوں کے برابر رکھا گیا ہے۔اس اعتراض کو سن کر حضرت عمر نے ان لوگوں کو بلایا اور ابن عباس کی حاضری میں ان سے پوچھا کہ آپ لوگ اذا جاء نصر الله والی سورۃ کا کیا مطلب سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا اس کا یہی مطلب ہے کہ اب ترقی کا زمانہ آ رہا ہے اور بس اس پر حضرت عمرؓ نے ابن عباس سے چھا کہ تم کیا سمجھتے ہو۔ابن عباس نے کہا میں تو یہ سمجھا ہوں اور سمجھا تھا کہ اس سورۃ میں ترقی کی خبر کے ساتھ ساتھ رسول اللہ کے قرب وفات کی خبر بھی دی گئی ہے کہ حضرت عمرؓ نے کہا میں بھی یہی سمجھا تھا اور اس سے کچھ زیادہ نہیں سمجھا جس پر ان لوگوں نے سمجھ لیا کہ ابن عباس کو