مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 524 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 524

مضامین بشیر ۵۲۴ فرائض کی طرف سے غفلت۔آرام طلبی اور ستی۔قربانی سے گریز عیش پرستی ، تکبر ونخوت ، ظلم وستم وغیرہ وغیرہ ، ان میں ظاہر ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔یہ وہ دو عظیم الشان خطرے ہیں جو ہر اس قوم کو پیش آتے ہیں جو ایک کمزور اور مقہور حالت سے اٹھ کر مضبوطی اور غلبہ کی حالت کو پہونچتی ہے۔وہ اس بات کو بھول جاتی ہے کہ کسی زمانہ میں وہ اتنی کمزور و نا تواں تھی کہ اس کے لئے خود بخود اٹھنا بالکل محال تھا اور صرف خدا کے طاقتور ہاتھ نے اسے اٹھایا۔وہ اس بات کو بھول جاتی ہے کہ دنیا کے تمام ظاہری اسباب اس کے خلاف تھے مگر خدا نے اپنے زبر دست باطنی اسباب کو حرکت میں لاکر اس کے واسطے ترقی کا رستہ کھولا۔وہ اس بات کو بھول جاتی ہے کہ اگر اسے سہا را دینے کے لئے خدائے ذوالعرش کی غیر معمولی تقدیر آڑے نہ آتی تو اس کا ترقی کرنا تو درکنار زندہ رہنا بھی محال تھا۔وہ اپنے ترقی کے زمانہ میں ان سب باتوں کو بھول کر صرف اس نشہ آور خیال میں مخمور ہونے لگتی ہے کہ میں نے جو کچھ حاصل کیا ہے اپنے قوت بازو سے حاصل کیا ہے اور یہ عروج کے زمانہ کا سارا باغ و بہار میری اپنی ہی قربانیوں کا ثمرہ ہے۔یہ وہ مہلک خطرہ ہے جس کی طرف ہمارے آسمانی آقا نے ان مختصر الفاظ میں توجہ دلائی ہے کہ سبح بحمد ربک یعنی تم اپنے ترقی کے زمانہ میں اپنے قوت و باز و یا اپنی قربانیوں کی طرف نہ دیکھنا کیونکہ خدا کی نصرت کے بغیر یہ چیز میں ایک مردہ کیڑے سے بڑھ کر نہیں ہیں بلکہ اس خدا کی حمد کے گیت گا نا جو تمہارا رب ہے ، جس نے تمہیں پستی کے ایک تاریک گڑھے سے اٹھا کر بلندی کے ایک مضبوط اور روشن مینار پر پہنچا دیا ہے۔دوسرا خطرہ ان خرابیوں کے پیدا ہونے سے تعلق رکھتا ہے جو عموماً ترقی کے زمانہ میں قوموں میں پیدا ہو جایا کرتی ہیں۔اور عین شباب کے جو بن میں موت کا پیغام لے آتی ہیں۔ایسی قوموں کے اٹھان میں ہی ان کے تنزل کا بیج مخفی ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے اٹھنے کے ساتھ ساتھ ہی ان گندے اور مذموم اخلاق کا شکار ہونے لگتی ہیں جو قوموں کی زندگی کے لئے ایک مہلک زہر کا رنگ رکھتے ہیں۔یہ ایک کھلی ہوئی تاریخی حقیقت ہے۔اور آہ کتنی تلخ حقیقت ہے کہ ہر ترقی کرنے والی قوم جو بعد میں گرتی ہے اس کے گرنے کے اسباب خود اس کے اپنے عروج کی تہوں میں لیٹے ہوئے ہوتے ہیں۔کسی شاعر نے کیا خوب مصرع کہا ہے۔اس گھر کو آگ لگ گئی گھر کے چراغ سے قوموں کے گھر بھی کسی باہر سے آئی ہوئی آگ سے نہیں جلا کرتے بلکہ خود گھر کے چراغ سے ہاں اسی چراغ سے جو ان کی روشنی کا ذریعہ ہے جل کر خاک ہو جایا کرتے ہیں۔کیونکہ قوموں کا تنزل بدا خلاقی