مضامین بشیر (جلد 1) — Page 45
۴۵ مضامین بشیر میں اس اعتراض کے لب ولہجہ کے متعلق کچھ نہیں کہوں گا کیونکہ جو کہنا تھا اصولی طور پر کہہ چکا ہوں۔اب کہاں تک اسے دہرا تا جاؤں مگر افسوس یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب کی آنکھوں میں بسم اللہ بھی کھٹکنے سے نہیں رہی۔تعصب بھی بری بلا ہے میں تبرک و تیمن کے خیال سے ہر روایت کے شروع میں بسم اللہ لکھتا ہوں اور ڈاکٹر صاحب آتش غضب میں جلے جاتے ہیں مگر مکرم ڈاکٹر صاحب ! اس معاملہ میں تو مجھے آپ کی اس تکلیف میں آپ سے ہمدردی ضرور ہے لیکن بسم الله الرحمن الرحيم کا لکھنا تو میں کسی صورت میں نہیں چھوڑ سکتا۔آپ کے اصل کا مطلب یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو کچھ قرآن شریف نے کیا ہے اس کے خلاف کرو تا کہ نقل کرنے کے الزام کے نیچے نہ آ جاؤ۔میں کہتا ہوں کہ خواہ دنیا ہمارا نام نقال رکھے یا اس سے بھی بڑھ کر کوئی خطاب دے لیکن قرآن شریف کے نمونہ پر چلنا کوئی مسلمان نہیں چھوڑ سکتا۔اگر قرآن شریف کو با وجود اس کے کہ وہ خدا کا کلام اور مجسم برکت و رحمت ہے اپنی ہر سورت کے شروع میں خدا کا نام لینے کی ضرورت ہے تو ہم کمزور انسانوں کے لئے جنہیں اپنے ہر قدم پر لغزش کا اندیشہ رہتا ہے یہ ضرورت بدرجہ اولی سجھی جانی چاہیئے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ نفسی ) فرماتے ہیں :- كل امرذى بال لا يبدأ ببسم الله فهو ابتر 9 یعنی ہر کام جو ذراسی بھی اہمیت رکھتا ہو وہ اگر بسم اللہ سے شروع نہ کیا جائے تو وہ برکات سے محروم ہو جاتا ہے لیکن ڈاکٹر صاحب ہیں کہ میرے بسم اللہ لکھنے کو بچوں کا کھیل قرار دے رہے ہیں۔اور اگر ڈاکٹر صاحب کا یہ منشاء ہو کہ بس صرف کتاب کے شروع میں ایک دفعہ بسم اللہ لکھ دینی کافی تھی اور ہر روایت کے آغاز میں اس کا دہرا نا مناسب نہیں تھا تو میں کہتا ہوں کہ قرآن شریف نے کیوں ہر سورت کے شروع میں اسے دہرایا ہے۔کیا یہ کافی نہ تھا کہ قرآن شریف کے شروع میں صرف ایک دفعہ بسم اللہ درج کر دی جاتی اور پھر ہر سورت کے شروع میں اسے نہ لایا جاتا۔جو جواب ڈاکٹر صاحب قرآن شریف کے متعلق دیں گے وہی میری طرف سے تصور فرمالیں۔دراصل بات یہ ہے جسے ڈاکٹر صاحب نے اپنے غصہ میں نظر انداز کر رکھا ہے کہ ہر کام جو ذرا بھی مستقل حیثیت رکھتا ہو خدا کے نام سے شروع ہونا چاہیئے اور یہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کا منشاء ہے جو او پر درج کیا گیا ہے۔اسلام نے تو اس مسئلہ پر یہاں تک زور دیا ہے کہ انسان کی کوئی حرکت وسکون بھی ایسا نہیں چھوڑا جس کے ساتھ خدا کے ذکر کو کسی نہ کسی طرح وابستہ نہ کر دیا ہو۔اٹھنا بیٹھنا ، کھانا سونا جاگنا ، بیوی کے پاس جانا ، گھر سے نکلنا ، گھر میں داخل ہونا ، شہر سے نکلنا ، شہر میں داخل ہونا، کسی سے ملنا ، کسی سے رخصت ہونا ، رفع حاجت کے لئے پاخانہ میں جانا ، کپڑے بدلنا ، کسی کام کو شروع کرنا ، کسی کام کو ختم