مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 46 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 46

مضامین بشیر ۴۶ کرنا ، غرض زندگی کی ہر حرکت وسکون میں خدا کے ذکر کو داخل کر دیا اور میرے نزدیک اسلام کا یہ مسئلہ اس کی صداقت کے زبر دست دلائل میں سے ایک دلیل ہے مگر نہ معلوم ڈاکٹر صاحب میرے بسم اللہ لکھنے پر کیوں چیں بجیں ہورہے ہیں۔میں نے کوئی ڈاکہ مارا ہوتا یا کسی بے گناہ کو قتل کر دیا ہوتا یا کسی غریب بے بس کے حقوق کو دبا کر بیٹھ گیا ہوتا یا کسی الحاد و کفر کا ارتکاب کرتا تو ڈاکٹر صاحب کی طرف سے یہ شور و غوغا کچھ اچھا بھی لگتا لیکن ایک طرف اس چیخ و پکار کو دیکھئے اور دوسری طرف میرے اس جرم کو دیکھئے کہ میں نے خدا کے نام کا استعمال اس حد سے کچھ زیادہ دفعہ کیا ہے جو ڈاکٹر صاحب کے خیال میں مناسب تھی تو حیرت ہوتی ہے۔خیر جو بات میں کہنا چاہتا تھا وہ یہ ہے کہ اسلام کی یہ تعلیم ہے کہ ہر کام جو ذرا بھی مستقل حیثیت رکھتا ہو بلکہ زندگی کی ہر حرکت و سکون خدا تعالیٰ کے اسم مبارک سے شروع کیا جائے تا کہ ایک تو کام کرنے والے کی نیت صاف رہے اور دوسرے خدا کا نام لینے کی وجہ سے کام میں برکت ہو۔چنانچہ قرآن شریف نے جو اپنی ہر سورت کو بسم اللہ سے شروع فرمایا ہے تو اس میں بھی ہمارے لئے یہی عملی سبق مقصود ہے۔اب ناظرین کو یہ معلوم ہے اور ڈاکٹر صاحب موصوف سے بھی یہ امر مخفی نہیں کہ سیرۃ المہدی کوئی مرتب کتاب نہیں ہے بلکہ اس میں مختلف روایات بلا کسی ترتیب کے اپنی مستقل حیثیت میں الگ الگ درج ہیں۔اس لئے ضروری تھا کہ میں اس کی ہر روایت کو بسم اللہ سے شروع کرتا۔اگر سیرت المہدی کی روایات ایک ترتیب کے ساتھ ایک دوسرے کے ساتھ منسلک ہوتی ہوئی ایک متحدہ صورت میں جمع ہوتیں تو پھر یہ ساری روایات ایک واحد کام کے حکم میں سمجھی جاتیں اور اس صورت میں صرف کتاب کے شروع میں بسم اللہ الرحمن الرحیم کا لکھ دینا کافی ہوتا لیکن موجودہ صورت میں اس کی ہر روایت ایک مستقل منفرد حیثیت رکھتی ہے۔اس لیے میں نے ہر روایت کو بسم اللہ سے شروع کیا ہے جیسا کہ قرآن کریم نے اپنی ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ کو رکھا ہے۔بہر حال اگر قرآن کریم اپنی ہر سورت کے شروع میں بسم اللہ کا درج کرنا ضروری قرار دیتا ہے باوجود اس کے کہ اس کی تمام سورتیں ایک واحد لڑی میں ترتیب کے ساتھ پروئی ہوئی ہیں تو سیرۃ المہدی کی روایات جو بالکل کسی ترتیب میں بھی واقع نہیں ہوئیں بلکہ فی الحال ان میں سے ہر ایک الگ الگ مستقل حیثیت رکھتی ہے حتی کہ اسی وجہ سے ڈاکٹر صاحب نے سیرۃ المہدی کو ایک گڑ بڑا مجموعہ قرار دیا ہے بدرجہ اولی بسم اللہ سے شروع کی جانی چاہیئے۔اور اسی خیال سے میں نے کسی روایت کو بغیر بسم اللہ کے شروع نہیں کیا۔دراصل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حالات جمع کرنے کا کام ایک بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔اور سوائے خدا کی خاص نصرت و فضل کے اس کام کو بخیر وخوبی سرانجام دینا ایک نہایت مشکل ا