مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 44 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 44

مضامین بشیر ۴۴ اگر میری قلم سے چند فقرے عربی صرف ونحو کے مطابق لکھے گئے اور میں خدا کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ وہ میں نے نقل اور تصنع کے طور پر نہیں لکھے تو آپ اس کے متعلق اس طرح دل آزار طریق پر اعتراض کرتے ہوئے بھلے نہیں لگتے۔باقی رہی محدثین کی تنقید اور باریک بینی۔سو وہ تو مسلم ہے اور میری خدا سے دعا ہے کہ وہ مجھے ان جیسا دل و دماغ اور علم و عمل عطا فرمائے۔پس آپ اور کیا چاہتے ہیں میں نے جہاں تک مجھ سے ہو سکا چھان بین اور تحقیق و تدقیق سے کام لیا ہے اور جہاں آپ نے آگے چل کر میری غلطیوں کی مثالیں پیش فرمائی ہیں وہاں انشاء اللہ میں یہ ثابت کرسکوں گا کہ میں نے روایات کے درج کرنے میں اندھا دھند طریق سے کام نہیں لیا۔آپ کا یہ تحریر فرما نا کہ سیرۃ المہدی ایک گڑ بڑ مجموعہ ہے نیز یہ کہ ”میں نے مفت میں اپنا مذاق اڑوایا ہے آپ کو مبارک ہو اس قسم کی باتوں کا میں کیا جواب دوں۔اگر سیرۃ المہدی ایک گڑ بڑ مجموعہ ہے تو بہر حال ہے تو وہ ہمارے آقا علیہ السلام کے حالات میں ہی اور نہ ہونے سے تو اچھا ہے۔میں نے تو خود لکھ دیا تھا کہ میں نے روایات کو بلاکسی ترتیب کے درج کیا ہے۔پھر نا معلوم آپ نے اسے ایک گڑ بڑ مجموعہ قرار دینے میں کون سی نئی علمی تحقیق کا اظہار فرمایا ہے۔آج اگر وہ بے ترتیب ہے تو کل کوئی ہمت والا شخص اسے ترتیب بھی دے لے گا۔بہر حال اس کام کی تکمیل کی طرف ایک قدم تو اٹھایا گیا اور اگر آپ ذوق شناس دل رکھتے تو آپ کو اس گڑ بڑا مجموعہ میں بھی بہت سی اچھی باتیں نظر آجاتیں اور مذاق اڑوانے کی بھی آپ نے خوب کہی۔مکرم ڈاکٹر صاحب آپ خود ہی مذاق اڑانے والے ہیں۔سنجیدہ ہو جائیے۔پس نہ میرا مذاق اڑے گا۔اور نہ آپ کی متانت اور سنجیدگی پر کسی کو حرف گیری کا موقع ملے گا۔آپ پریشان کیوں ہوتے ہیں۔یہ تو سب اپنے اختیار کی بات ہے۔وو پانچواں اصولی اعتراض جو ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے مضمون کے شروع میں بیان کیا ہے وہ یہ ہے کہ سیرت المہدی میں احادیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک سیٹرھی آگے چڑھنے کی کوشش کی گئی ہے۔یعنی ہر ایک روایت کو بسم الله الرحمن الرحیم سے شروع کیا ہے۔؟! پڑھنے والوں کو سمجھ نہیں آتا کہ یہ موجودہ زمانے کے راویوں کی کوئی روایت شروع ہو رہی ہے یا قرآن کی سورت شروع ہو رہی ہے۔خاصہ پارہ عم نظر آتا ہے گویا جابجا سورتیں شروع ہو رہی ہیں۔حدیث کی نقل ہوتے ہوتے قرآن کی نقل بھی ہو نے لگی۔اس کا نام بچوں کا کھیل ہے۔‘“ : مطبوعه الفضل یکم جون ۱۹۲۶ء