مضامین بشیر (جلد 1) — Page 505
مضامین بشیر کر رکھی ہیں اور رمضان کی دُعاؤں کے متعلق تو اللہ تعالیٰ نے قبولیت کی شرائط کو ایک بہت ہی معین صورت دے دی ہے۔چنانچہ فرماتا ہے :- 66 " فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ ٣٣ یعنی ہم رمضان کے مہینہ میں اپنے بندوں کی دُعاؤں کو ضر ور قبول کریں گے مگر یہ شرط ہے کہ وہ میری بات مانیں۔یعنی رمضان کے متعلق جو حکم میں نے دیا ہے اسے قبول کریں اور مجھ پر سچا ایمان لائیں۔وہ ایمان پر محبت اور اخلاص پر مبنی ہو۔اور اس میں کسی قسم کے نفاق اور شرک کی ملونی نہ پائی جائے ، ان شرطوں پر کار بند ہو کر وہ قبولیت کا رستہ ضرور پالیں گے۔اب دیکھو کہ یہ ایک کیسا آسان سودا ہے جو خدا نے ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔باقی رہا یہ امر کہ خدا کس صورت اور کس رنگ میں دُعا کو قبول فرماتا ہے۔سو یہ خدا کی سُنت وحکمت پر موقوف ہے جس میں انسان کو دخل نہیں دینا چاہیئے۔وہ جس رنگ اور جس صورت میں مناسب خیال کرے گا۔ہماری دُعاؤں کو قبول کرے گا لیکن اگر ہم اس کی شرطوں کو پورا کر دیتے ہیں تو وہ قبول ضرور کریگا اور ممکن نہیں کہ اس کا وعدہ غلط نکلے۔دعا کس طرح کی جائے دعاؤں کے متعلق یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ ہر دعا سے پہلے خدا کی حمد کرنا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر درود بھیجنا اور اسلام اور احمدیت کی ترقی کے لئے دعا مانگنا نہایت ضروری ہے۔اور جو شخص ان دعاؤں کو ترک کرتا ہے ، وہ یقیناً خدا کا مخلص بندہ نہیں سمجھا جا سکتا۔البتہ ان دعاؤں کے بعد اپنے لئے اور اپنے خاندان کے لئے اور اپنے عزیزوں اور دوستوں کے لئے بھی دعائیں کی جائیں اور دعاؤں میں درد اور گداز پیدا کیا جائے۔ایسا گداز جس سے دل پگھلنے لگے اسی طرح جس طرح ایک لوہے کا ٹکڑا بھٹی میں پگھلتا ہے تا کہ دعا ایک رسمی اور مردہ چیز نہ رہے بلکہ حقیقی اور زندہ چیز بن جائے۔ایسی دعا موقوف ہے الہی توفیق پر اور پھر دعا کرنے والے کے حالات اور احساسات پر۔ماہ صیام کی خدا کے حضورت شہادت یہ وہ چند باتیں ہیں جنہیں اختیار کر کے انسان رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور یقیناً