مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 500 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 500

مضامین بشیر ۵۰۰ قرآن شریف میں تہجد کی اتنی تعریف آئی ہے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تہجد کی نماز کو پوری شرائط اور پورے خلوص کے ساتھ ادا کرنے سے انسان خدا کی نظر میں مقام محمود تک پہونچ جاتا ہے۔یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ ہر انسان کے لئے علیحدہ علیحدہ مقام محمود مقرر ہے ، جو گویا اس کی روحانی ترقی کا انتہائی نقطہ ہے جس تک پہونچ کر وہ خدا کی نظر میں اس تعریف کا مستحق ہو جاتا ہے کہ اب میرے اس بندے نے اپنی فطری استعداد کے مطابق اپنی روحانی ترقی کے انتہائی نقطہ کو پالیا اور تہجد کی نما ز انسان کو اس کے مقام محمود تک پہونچانے میں حد درجہ مؤثر ہے۔تلاوت قرآن کریم زیادہ کی جائے سوم : تیسری شرط رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کی یہ ہے کہ انسان رمضان کے مہینہ میں قرآن شریف کی تلاوت پر خاص زور دے۔میں اپنے ذوق کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ایک حدیث سے یہ نتیجہ اخذ کرتا ہوں کہ انسان کو رمضان کے مہینہ میں کم از کم دو دفعہ قرآن شریف کا دور ختم کرنا چاہیئے۔دو دفعہ میں حکمت یہ ہے کہ جب انسان ایک دفعہ قرآن شریف ختم کر کے پھر ا سے دوسری مرتبہ شروع کرتا ہے تو وہ گویا زبانِ حال سے اس بات کا اقرار کرتا ہے کہ قرآن شریف کے متعلق میرا طریق یہ نہیں ہوگا کہ میں اسے ایک دفعہ پڑھ لوں اور پھر بھول جاؤں یا بند کر کے رکھ دوں بلکہ میں اسے بار بار تکرار کے ساتھ پڑھتا رہوں گا اور اس کے حکموں کو ہر وقت اپنی نظروں کے سامنے رکھوں گا۔چنانچہ حدیث میں آتا ہے کہ ابتداء میں حضرت جبرائیل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہر رمضان میں قرآن شریف کا ایک دور ختم کیا کرتے تھے لیکن جب قرآن شریف کا نزول مکمل ہو چکا تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی کے آخری رمضان میں حضرت جبرائیل نے آپ کے ساتھ قرآن شریف کا دو دفعہ دور کیا ۲۹۔پس چونکہ ہمارے سامنے بھی قرآن شریف مکمل صورت میں ہے اس لئے اگر انسان کو توفیق ملے تو رمضان میں قرآن شریف کے دو دور پورے کرنے چاہئیں اور یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔میں نے اندازہ کیا ہے کہ اگر انسان اوسطاً پچاس منٹ روزانہ دے تو وہ آسانی کے ساتھ قرآن شریف کے دود ورختم کر سکتا ہے۔تلاوت قرآن کے متعلق ضروری امور علاوہ ازیں قرآن شریف کی تلاوت کے متعلق ہر مسلمان کو ذیل کی چار باتیں ضرور ملحوظ