مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 498 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 498

مضامین بشیر ۴۹۸ رحمت اور برکت کا لطیف چکر رمضان کی یہ صفت گویا ایک گونہ دوری کا رنگ رکھتی ہے۔یعنی رمضان کی خاص برکات کی وجہ سے اس میں خاص عبادتیں مقرر کی گئیں اور پھر ان خاص عبادتوں کی وجہ سے رمضان نے مزید خاص برکتیں حاصل کیں۔گویا رحمت و برکت کا ایک لطیف چکر قائم ہو گیا۔الغرض یہ وہ خصوصیات ہیں جن کی وجہ سے رمضان کا مہینہ خاص طور پر مبارک مہینہ قرار دیا گیا ہے اور مسلمانوں کو حکم ہے کہ وہ اس مہینہ کی برکتوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں تا کہ رحمت و برکت کا یہ لطیف چکر زیادہ سے زیادہ وسیع ہوتا چلا جائے۔برکات رمضان سے فائدہ اٹھانے کا طریق اب سوال ہوتا ہے کہ رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کا طریق کیا ہے۔سو یہ کوئی مشکل سوال نہیں اور اسلام نے اسے نہائت سہل طریق پر چند سادہ ہدایات دے کر حل کر دیا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ اکثر لوگ صرف مونہہ کی خواہش سے تمام مراحل طے کرنا چاہتے ہیں اور دین کی راہ میں کسی چھوٹی سے چھوٹی قربانی کے لئے بھی تیار نہیں ہوتے۔بہر حال اسلام نے رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھانے کا جو طریق بتایا ہے اسے ہم ذیل کے چند مختصر فقروں میں ہدیہ ناظرین کرتے ہیں۔بغیر شرعی عذر کے روزہ نہ ترک کیا جائے اول : رمضان کی برکتوں سے فائدہ اٹھائے کے لئے سب سے ابتدائی اور سب سے ضروری شرط یہ ہے کہ انسان خدا کے حکم کے مطابق رمضان کے روزے رکھے اور بغیر کسی شرعی عذر کے کوئی روزہ ترک نہ کرے۔روزہ رمضان کی برکات کے لئے گویا بطور ایک کلید کے ہے اور جو شخص با وجود روزہ واجب ہونے کے بغیر کسی شرعی عذر کے روزہ ترک کرتا ہے ، وہ ہرگز اس بات کا حق نہیں رکھتا کہ رمضان کی برکتوں سے کوئی حصہ پائے۔ہاں جو شخص کسی جائز شرعی عذر کی وجہ سے روزہ ترک کرتا ہے مثلاً وہ واقعی بیمار ہے یا سفر میں ہے وغیر ذالک اور محض حیلہ جوئی کے رنگ میں روزہ ترک کرنے کا طریق اختیار نہیں کرتا ، تو ایسا شخص شریعت کی نظر میں معذور ہے اور اس صورت میں وہ اگر رمضان کی دوسری شرائط کو پورا کر دیتا ہے تو وہ روزہ کے بغیر بھی رمضان کی