مضامین بشیر (جلد 1) — Page 475
۴۷۵ مضامین بشیر کے عنوان میں درج کیا ہے۔اور اب ناظرین خود اندازہ کر سکتے ہیں کہ یہ چھوٹی سی حدیث کتنے وسیع معانی اور کتنے لطیف مفہوم پر مشتمل ہے۔مگر افسوس ہے کہ میں اس مضمون میں اس حدیث کی پری پوری تشریح نہیں کر سکا اور متعد د حدیثوں میں سے جو میں نے اس مضمون کے لئے نوٹ کی تھیں صرف ایک ہی حدیث درج ہو سکی ہے۔اور اس کی بھی مکمل تشریح نہیں ہو سکی۔جس کی وجہ یہ ہے کہ ابھی میں نے یہ مضمون لکھنا شروع ہی کیا تھا کہ مجھے کچھ دل کی تکلیف شروع ہو گئی اور مضمون لکھنا مشکل ہو گیا۔اس لئے میں نے جلدی جلدی چند سطور لکھنے پر اکتفا کی ہے لیکن میں امید رکھتا ہوں کہ اگر ناظرین کرام ان چند سطور کو غور سے مطالعہ کریں گے تو وہ سمجھ جائیں گے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ نفسی ) کا کلام نہ صرف فصاحت و بلاغت بلکہ معانی کی دولت سے کس درجہ معمور ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں آپ کے پر حکمت کلام کو سمجھنے اور اس کے مطابق زندگی بسر کرنے کی توفیق دے۔آمین یارب العالمین ( مطبوعہ الفضل ۱۸ جولائی ۱۹۴۱ء)