مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 474 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 474

مضامین بشیر ۴۷۴ لے جاتی ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- "فَإِنْ ذَهَبُتَ تُقِيمُهُ كَبَرُتَهُ، وَإِن تَرَكْتُهُ لَمْ يَزَلْ أَعْوَجَ، فَاسْتَوْصُوا بِالنِّسَاءِ خَيْرًا۔ال یعنی جب کہ یہ ٹیڑھا پن جو جذبات کے غلبہ سے تعلق رکھتا ہے عورت کی فطرت کا حصہ ہے جو اس سے جدا نہیں ہو سکتا۔بلکہ یہی ٹیڑھا پن صنف نازک کا کمال ہے۔تو پھر اگر تم اسے سیدھا کرنے کے درپے ہو گے۔تو لا محالہ وہ سیدھا تو ہرگز نہیں ہو گا ہاں فطرت کے خلاف دباؤ پڑنے سے وہ ٹوٹ ضرور جائے گا۔لیکن اگر اس کے مقابل پر تم عورت کو اس کی حالت پر بالکل ہی آزاد چھوڑ دو گے تو اس کا یہ نتیجہ ہوگا کہ وہ ہر حالت میں ٹیڑھی ہی رہے گی۔پس تمہیں چاہیئے کہ ایک طرف تو عورت کے اس فطری ٹیڑھے پن کی قدرو قیمت کو پہچانو اور اس سے اپنی زندگی میں فائدہ اٹھاؤ اور دوسری طرف اس بات کی بھی نگرانی رکھو کہ عورت کا یہ ٹیڑھا پن ہر وقت اس کے گلے کا ہار نہ بنا ر ہے بلکہ جذبات کے ساتھ ساتھ عقل کی روشنی بھی قائم رہے اور تمہیں چاہیئے کہ بہر حال تم عورتوں کے ساتھ اچھا سلوک کرو کیونکہ وہ ایسے عناصر کا مرکب ہیں جن میں دونوں طرف غلطی کا اندیشہ رہتا ہے۔۔ان الفاظ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے متبعین کو یہ نصیحت فرمائی ہے کہ وہ اس معاملہ میں فطرت کے دوانتہائی نقطوں میں سے درمیانی رستہ اختیار کریں۔یعنی چونکہ عورت کا فطری ٹیڑھا پن جو اس کی صنف کا کمال ہے۔انسان کی بہتری کے لئے رکھا گیا ہے۔اس لئے آپ ارشاد فرماتے ہیں کہ اس سے فائدہ اٹھاؤ اور اس کے ذریعہ حسب ضرورت اور حسب موقع عورت کے جذبات میں سکینت اور محبت کی راحت حاصل کرو۔مگر دوسری طرف چونکہ انسان بالعموم انتہاء کی طرف جھک جانے کا عادی ہوتا ہے۔اس لئے اگر کوئی عورت صرف جذبات کا کھلونا بن کر ہی زندگی گزارنا چاہے اور ہر حالت میں ٹیڑھا پن ہی ظاہر کرے تو پھر تم اسے بالکل آزاد ہی نہ چھوڑ دو بلکہ اس کے جذبات کے دھندلکے میں عقل کی شعاع میں ڈال کر مناسب اصلاح کی کوشش کرتے رہو۔تا کہ ایک ہی طرف کا نا گوار غلبہ ہو کر دوسری طرف کو بالکل ہی نسیا نسیا نہ کر دے۔اور جذبات کے فطری غلبہ کے با وجو دمنا سب اعتدال کی حالت قائم رہے۔یہ اس عجیب وغریب حدیث کی مختصر سی تشریح ہے جس کے ایک حصہ کا ترجمہ میں نے مضمون