مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 476 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 476

مضامین بشیر مسئلہ رحم میں جماعت کے علماء کو تحقیق کی دعوت غالباً تین یا چار سال کا عرصہ ہوا ہو گا کہ میں نے اس معروف فقیہی مسئلہ کے متعلق علمائے سلسلہ کو تحقیق کی دعوت دی تھی کہ کیا اسلامی تعلیم کی رو سے جس شخص کا کوئی لڑکا اس کی زندگی میں فوت ہو جائے اور اس کے دوسرے لڑکے زندہ موجود ہوں۔اس کے پوتے یعنی متوفی لڑکے کے لڑکے کو اس کا ورثہ پہو نچتا ہے یا نہیں۔میری اس تحریک پر استاذی المکرم حضرت مولوی محمد اسماعیل صاحب فاضل مرحوم نے ایک سلسلہ مضامین لکھا اور معروف عقیدہ کی تائید میں بہت سے دلائل بیان فرمائے۔( اور غرض بھی یہی تھی کہ تائید یا تردید جو بھی صورت ہو۔اس کے دلائل سامنے آجائیں ) مگر افسوس ہے کہ دوسرے علماء نے خاموشی اختیار کی اور اس طرح یہ اہم مسئلہ بدستور تشنہ تحقیق رہا۔گو مجھے حال ہی میں معلوم ہوا ہے کہ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے اس مسئلہ کو ایک احسن طریق پر حل فرما دیا ہے اور امید رکھنی چاہیئے کہ انشاء اللہ کسی مناسب موقع پر حضور کا فتویٰ شائع ہو کر احباب تک پہونچ جائے گا۔مسئله رحم اسی سلسلہ کی دوسری کڑی کے طور پر میں اس جگہ مسئلہ رجم کے متعلق اہل علم طبقہ کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں۔یعنی یہ کہ آیا اسلام نے فی الواقعہ شادی شدہ مرد یا عورت کے لئے زنا کی سزا رجم ، یعنی سنگسار مقرر فرمائی ہے؟ جیسا کہ ہر شخص جانتا ہے جمہور مسلمانوں کا عام عقیدہ ہمیشہ سے یہی رہا ہے کہ جب کوئی شادی شدہ مرد یا عورت زنا کا مرتکب ہو۔اور خدا تعالیٰ کی ستاری اس سے اپنا دامن بھینچ کر اسے ننگا کر دے اور اس کا یہ جرم چار معتبر اور چشم دید گواہوں کی شہادت سے پایہ ثبوت کو پہونچ جائے تو ایسے شخص کے لئے اسلام نے یہ سزا مقرر کی ہے کہ اسے کسی کھلے میدان میں کھڑا کر کے خواہ زمین میں گاڑ کر یا ویسے ہی اس پر پتھروں کی بارش برسائی جائے۔حتی کہ وہ اسی حالت میں پتھروں کی ضرب کھاتا ہوا جان بحق ہو جائے۔یہ عقیدہ اوائل سے لے کر اب تک جمہور مسلمانوں کا مسلم عقیدہ رہا ہے اور گو بعض نے اس عقیدہ سے اختلاف کیا ہے مگر یہ اختلاف اس قدرقلیل اور شاذ ہے کہ کہا جاسکتا