مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 472 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 472

مضامین بشیر ۴۷۲ میں تشریف لاکر اپنی ازواج کے ساتھ محبت کی باتوں میں مصروف ہوتے۔آپ ہم سے باتیں کرتے اور ہم آپ سے باتیں کرتیں۔مگر جو نہی کہ اذان کی آواز کان میں پڑتی اور آپ یہ سمجھتے کہ میرے خدا نے مجھے بلا یا ہے تو اس وقت ہمیں چھوڑ کر یوں اٹھ کھڑے ہوتے کہ گویا آپ ہمیں پہچانتے تک نہیں،، الله الله ! اللہ اللہ ! یہ وہ پاک اور مقدس زندگی ہے جس پر دنیا کے اوباش لوگ تعیش اور شہوت پرستی کا الزام لگاتے ہیں۔خود ہزاروں لاکھوں گندوں میں مبتلا اور دن رات تعیش اور شہوت پرستی کے شغل میں مصروف اور اس تقدس وطہارت کے مجسمہ پر اعتراض جس کی زندگی کا ایک ایک لمحہ خدمتِ دین اور خدمت خلق میں گزرتا تھا اور جو اپنی اہلی زندگی سے اس سے زیادہ متمتع نہیں ہوتا تھا جتنا کہ ایک دھوپ میں چلنے والا مسافر جس کی منزل دور ہو دھوپ اور تکان کی حدت سے چور ہو کر ایک گھڑی بھر کے لئے کسی درخت کے سایہ میں کھڑا ہو جاتا ہے۔اور چند منٹ کے آرام کے بعد پھر کمر کس کر اپنے لمبے اور پُر مشقت سفر پر نکل کھڑا ہوتا ہے اور جتنی دیر وہ درخت کے سایہ کے نیچے آرام کرتا ہے وہ وقت بھی اس کا اسی انتظار میں گزرتا ہے کہ کب قافلہ کی گھنٹی بجتی ہے اور کب مجھے اٹھ کر اپنا رستہ لینا پڑتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں اور کیا خوب فرماتے ہیں :- آں شہ عالم که نامش مصطفی عشاق حق شمس الضحى آں کہ ہر نورے طفيل نور اُوست آں کہ منظورِ خدا منظور اوست آں کہ مہرش مے رساند تا سما ئے گند چون ماہِ تاباں درصفا آں نبی در چشم این کوران زار یک شہوت پرست و کیں شعار شرمت آید اے سگِ ناچیز و پست نہی نام یلاں شہوت پرست ے چیستی اے کورک فطرت تباہ