مضامین بشیر (جلد 1) — Page 471
مضامین بشیر لطیف حقیقت کو نہیں سمجھتے کہ دراصل قانون فطرت کے ماتحت یہی وہ لوگ ہیں جنہیں اس قسم کی سکینت کی سب سے زیادہ ضرورت ہے کیونکہ ان لوگوں کے سپر د بہت بھاری ذمہ داریاں ہوتی ہیں اور جب وہ ان ذمہ داریوں کی ادائیگی میں تھک کر چور ہو جاتے ہیں اور ان کی محدود انسانی طاقت ان کے فرایض منصبی کے بوجھ کے نیچے دب کر گویا ٹوٹنے لگتی ہے تو ایسے اوقات میں انہیں تھوڑے سے وقت کے لئے جذباتی تسکین کی ضرورت پیش آتی ہے۔پس ان اوقات میں وہ اپنے اہل وعیال کے پاس بیٹھ کر قلبی سکون حاصل کرتے ہیں اور پھر تازہ دم ہو کر اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ان حالات میں اگر غور کیا جائے تو دراصل اس قسم کی سکینت کی ضرورت ہی ان لوگوں کو ہوتی ہے جو بھاری ذمہ داریوں کے نیچے دبے ہوتے ہیں۔اور اس کے مقابل پر عام لوگوں کو جو بے سمجھی سے اس جذباتی سکینت کو ہی اصل زندگی سمجھنے لگتے ہیں اس کی چنداں ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ ایک طرف تو ان پر ایسی ذمہ داریوں کا بوجھ نہیں ہوتا جو انہیں تھکا کر چور کر دیں اور دوسری طرف وہ زندگی کی اصل غرض و غایت کی طرف سے غافل ہوکر ہر وقت جذباتی ماحول میں ہی غرق رہتے ہیں۔گویا وہ تسکین جس کا حق انسان کو تکان کے اوقات میں پیدا ہوتا ہے وہ اِن لوگوں کے لئے ہر وقت کا مشغلہ ہوتی ہے مگر اُن لوگوں کا حال جن پر بھاری ذمہ داریوں کا بوجھ ہوتا ہے بالکل جدا گانہ رنگ رکھتا ہے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حدیث میں آتا ہے اور اس حدیث کا ذکر مجھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی ایک ڈائری سے ملا ہے کہ بعض اوقات جب آپ اپنے فرائض نبوت کی بھاری ذمہ داریوں میں تھک کر چور ہو جاتے تھے اور جسمانی قوی گویا ٹوٹنے کی حد تک پہونچ جاتے تھے تو آپ حضرت عائشہ کے پاس تشریف لا کر فرماتے تھے۔اريـحـيـنـايا عائشة ۱۸ یعنی آؤ عا ئشہ اس وقت ہمیں کچھ راحت پہونچاؤ اور پھر تھوڑی دیر اپنی ازواج کے ساتھ محبت و پیار کی باتیں کر کے دوبارہ اپنے تھکا دینے والے کام میں مصروف وو ہو جاتے تھے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم گھر میں کس شان سے تشریف رکھتے مگر یہ گھر میں بیٹھنا بھی کس شان کا ہوتا تھا۔اس کی تھوڑی سی جھلک ذیل کے الفاظ میں ملاحظہ کیجئے حدیث میں آتا ہے :- قَالَتْ عَائِشَةَ رَضِى اللهُ عَنْهَا كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَدِتُنَا وَنُحَدِّثُهُ فَإِذَا حَضَرَتِ الصَّلَاةُ فَكَأَنَّهُ لَمْ يَحْرِ فَنَاوَلَمُ نَعْرِفْهُ۔19 یعنی حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ بعض اوقات آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم گھر