مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 448 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 448

۴۴۸ مضامین بشیر و مغفور کے واقعات بیان کئے۔یہ صاحب حضرت مرزا صاحب مرحوم کے گہرے دوست بلکہ پروردہ تھے۔حضرت مرزا صاحب نے شجاع آباد کے عرصہ قیام میں ان سے بہت اچھا سلوک کیا تھا اور ان کی دنیوی ترقیات اور عزت کا باعث بھی حضرت مرزا صاحب مرحوم کی ذات والا صفات تھی۔میں جون ۱۹۳۵ء سے اپریل ۱۹۳۹ ء تک شجاع آباد میں اسٹنٹ ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف سکولز رہا ہوں۔سید صاحب مذکور میرے ہمسایہ تھے اور غیر احمدی تھے لیکن مسلک صلح کل تھا اور حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے احسانات کو بار بار یاد کرتے تھے۔باتوں باتوں میں ایک دفعہ انہوں نے مرزا فضل احمد صاحب کی وفات کا بھی ذکر کیا لیکن سچ تو یہ ہے کہ اس وقت مجھے تو بالکل یہ خیال ہی نہ تھا کہ مولوی محمد علی صاحب مرزا فضل احمد صاحب کے جنازہ کے متعلق اتنا بڑا طوفان کھڑا کریں گے یا کر چکے ہیں ورنہ میں ان سے ان کی شہادت لکھوا لیتا۔اب بھی جو کچھ انہوں نے بیان کیا تھا وہ میں ذیل میں درج کرتا ہوں لیکن یہ عرض کئے دیتا ہوں کہ ان کے اصلی الفاظ مجھے پوری طرح یاد نہیں البتہ مفہوم سارا ان کا ہے اور الفاظ میں شاید کچھ تغیر و تبدل ہو۔میں اس شہادت کو ادا کرتے ہوئے مفہوم کے متعلق اللہ تعالیٰ کی قسم کھا تا ہوں کہ میں نے اس میں کوئی تغیر و تبدیل نہیں کیا۔وہ شہادت یہ ہے کہ مرز افضل احمد صاحب کے جنازہ کے ساتھ سید ولایت شاہ صاحب موصوف بھی قادیان میں تھے۔یہ معلوم نہیں کہ ساتھ گئے تھے یا پہلے ہی وہاں موجود تھے۔وہ کہتے تھے کہ میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ مرزا فضل احمد صاحب کے دفن کرنے اور جنازہ پڑھنے سے قبل حضرت مرزا غلام احمد صاحب ( یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ) نہایت کرب ، واضطراب کے ساتھ باہر ٹہل رہے تھے اور ایسا معلوم ہوتا تھا کہ آپ کو اس کی وفات سے حد درجہ تکلیف ہوئی ہے۔اسی امر سے جرات پکڑ کر میں خود حضور کے پاس گیا اور عرض کیا کہ حضور وہ آپ کا لڑکا تھا بیشک اس نے حضور کو خوش نہیں کیا لیکن آخر آپ کا لڑکا تھا۔آپ معاف فرمائیں اور اس کا جنازہ پڑھیں ( یہ بھی ہو سکتا ہے کہ مرزا سلطان احمد صاحب نے انہیں حضرت کے حضور بھیجا ہو ) اس پر حضرت صاحب نے فر ما یا نہیں شاہ صاحب۔وہ میرا فرمانبردار تھا اس نے کبھی مجھے ناراض نہیں کیا لیکن اس نے اپنے اللہ کو راضی نہیں کیا تھا اس لئے میں اس کا جنازہ نہیں پڑھتا۔آپ جائیں اور پڑھیں۔شاہ صاحب کہتے تھے کہ اس پر میں واپس آگیا اور جنازہ میں شریک ہوا۔پر میں اللہ تعالیٰ کی دوبارہ قسم کھا کر کہتا ہوں کہ شاہ صاحب کی مندرجہ بالا گفتگو کا مفہوم میں نے صحیح طور پر ادا کرنے کی پوری کوشش کی ہے بلکہ جہاں تک مجھے یاد ہے خط کشیدہ الفاظ بھی شاہ صاحب کے اپنے ہیں خصوصاً یہ فقرہ کہ