مضامین بشیر (جلد 1) — Page 449
۴۴۹ مضامین بشیر وو اس نے اپنے اللہ کو راضی نہیں کیا تھا “ والسلام۔خاکسار حبیب الرحمن بی۔اے اسٹنٹ ڈسٹرکٹ انسپکٹر آف سکولز کبیر والہ ضلع ملتان۔اس خط سے جو ایک معزز غیر احمدی کی چشم دید شہادت پر مشتمل ہے مندرجہ ذیل باتیں قطعی اور یقینی طور پر ثابت ہوتی ہیں۔اول یہ کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام مرز افضل احمد صاحب کو اپنا مطیع اور فرمانبردار خیال فرماتے تھے اور آپ کو ان کی وفات پر سخت صدمہ ہوا مگر تا ہم آپ نے ان کا جنازہ نہیں پڑھا۔جنازہ نہ پڑھنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ مرز افضل احمد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خدا دا د منصب کو قبول نہ کر کے خدا کی ناراضگی کو اپنے سر پر لیا تھا اور اس کے سوا کوئی اور وجہ جنازہ سے احتراز کرنے کی نہیں تھی۔سوم جیسا کہ جناب مولوی محمد علی صاحب نے بیان کیا ہے، جنازہ سے اجتناب کرنے کی یہ وجہ ہرگز نہیں تھی کہ جنازہ غیر احمدیوں کے قبضہ میں تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے جنازہ میں شرکت کا موقع نہیں تھا۔بلکہ حق یہ ہے کہ خود جنازہ میں شریک ہونے والے غیر احمدی لوگ حضرت صاحب کی خدمت میں حاضر ہو ہو کر درخواست کرتے تھے کہ حضور جنازہ میں شریک ہوں مگر پھر بھی بوجہ اس کے کہ مرزا فضل احمد صاحب احمدی نہیں تھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کے جنازہ سے احتراز فرمایا۔چهارم جیسا کہ جناب مولوی محمد علی صاحب نے بیان کیا ہے یہ بات بھی ہرگز درست نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مرزا افضل احمد صاحب کو عاق کر دیا ہوا تھا کیونکہ جب آپ انہیں اپنا مطیع اور فرمانبردار سمجھتے تھے تو پھر عاق وغیرہ کا قصہ خود بخو د باطل ہو جاتا ہے۔