مضامین بشیر (جلد 1) — Page 440
مضامین بشیر دل کی آواز ۴۴۰ میں نے دل کی آنکھ سے یہ سارے نظارے دیکھے اور میں اس خوشی میں پھولا نہ سماتا تھا کہ میں نے قربانی کے فلسفہ کو پا لیا لیکن عین جبکہ میں اس خوشی کے شباب میں تھا میرا دل پھر میرے سینہ میں ڈوبنا شروع ہواختی کہ میں نے یوں محسوس کیا کہ میں پھر کسی خیال میں کھویا گیا اور اس وقت میرے دل میں یہ آواز پیدا ہوئی کہ تو نے ابھی قربانی کا پورا فلسفہ نہیں سمجھا بھلا بتا تو سہی کہ تو خود کس گروہ میں ہے؟ تو نے قربانی کا زمانہ پایا اور اسے ضائع کر رہا ہے حالانکہ تو جان چکا ہے کہ یہی افضل چیز ہے اس کے بعد انعام کا زمانہ آئے گا اور اول تو یہ معلوم نہیں کہ تو اس زمانہ کو پائے یا نہ پائے بلکہ بظاہر حالات اغلب ہے کہ تو اس زمانہ کو نہیں پائے گا اور اگر پایا بھی تو افسوس ہے کہ ابھی تک تو فلسفہ قربانی کے اس نکتہ کو نہیں سمجھا کہ قربانی کی تلخی کے چکھے بغیر قربانی کے پھل کی حلاوت محسوس نہیں ہوا کرتی بلکہ گلے میں اٹک کر پھانسی کا پھندا بن جایا کرتی ہے۔اس آواز کوسن کر میری خوشی سے بلند ہوتی ہوئی گردن شرم سے نیچی ہو گئی اور میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا آگیا اور میں نے اس تاریکی میں گھرے ہوئے اپنے نفس کو آواز دی کہ ہاں ہاں اگر تو واقع قربانی کے فلسفہ کو سمجھ چکا ہے تو پھر بتا کہ تو خود کس حساب میں ہے ؟ میرا نفس اس آواز کا کوئی جواب نہ دے سکا۔میں نے اس سوال کو دوہرایا مگر پھر بھی خاموشی تھی اور میں یوں محسوس کرتا تھا کہ بس ابھی میرے دل کی حرکت بند ہو کر یہ سارا کھیل ختم ہو جائے گا۔تب میرے دل کی طرف سے نہیں بلکہ باہر سے اوپر کی طرف سے مجھے ایک آواز آئی مگر یہ اس جاگتے کی خواب کا دوسرا ورق ہے جو شر مند ہ عریانی نہیں ہوسکتا۔خدا تعالیٰ کا بہت بڑا احسان اے ہمارے خدا! اے ہمارے پیارے باپ! اے اس کون ومکان کے مالک! اے آسمانوں اور زمینوں کے بادشاہ! جو ہماری کسی خواہش پر نہیں بلکہ خود اپنی مرضی سے اپنے جمال و جلال کے اظہار کے لئے ہمیں نیست سے ہست میں لایا ہے تا ہم تیرے بندے بہنیں اور تیرے حضور میں تیری آنکھوں کے سامنے تیری رضا کے راستہ پر چلتے ہوئے تیری خدمت میں زندگی گزاریں تیرا یہ کتنا بڑا احسان ہے کہ تو نے ہم مٹی کے ذروں کو اپنے ہاتھ میں لے کر اوپر اٹھایا اور پھر اپنی ذات ہاں ازلی اور ابدی ذات پاک اور مقدس ذات کے ساتھ ہمیشہ کے لئے پیوست