مضامین بشیر (جلد 1) — Page 410
مضامین بشیر ۴۱۰ تقویٰ کے معنی تقویٰ کے معنی خوف یا ڈر کے کرنا ہر گز درست نہیں کیونکہ اسلام کا خدا نعوذ باللہ کوئی ڈراؤنی چیز نہیں ہے کہ اس کی عبادت کی بنیا د خوف یا دہشت پر قائم ہو۔بیشک نیکی کے رستہ میں بعض لوگوں کے لئے خوف کا عصر بھی مؤثر ہوتا ہے مگر یقیناً تقویٰ کے مفہوم میں وہ خوف داخل نہیں ہے جو ایک ڈراؤنی چیز کو دیکھ کر پیدا ہوتا ہے بلکہ صرف اس حد تک کا خوف داخل ہے کہ کوئی بات ہمارے خالق و مالک کی مرضی کے خلاف نہ ہو جائے۔یہ اسی قسم کا خوف ہے جیسا کہ ایک محبوب ہستی کے متعلق محبت کرنے والے کے دل میں ہوتا ہے کہ وہ کسی بات پر ناراض نہ ہو جائے۔بہر حال تقویٰ کے معنی خدا کی ناراضگی کے موقعوں سے بچنے اور اس کی رضا کے موقعوں کی تلاش کرنے کے ہیں اور تقویٰ اس جذبہ کا نام ہے جو دل کی گہرائیوں میں جاگزین ہوتا ہے اور جس سے حقیقی عمل صالحہ کا درخت پیدا ہوتا ہے۔اور اپنی شاخیں پھیلاتا ہے۔مگر یہ یاد رکھنا چاہیئے کہ تقوی خدا کی رضا جوئی کی کوشش کا نام نہیں بلکہ اس رُوح اور جذبہ کا نام ہے جو اس کوشش کی تہہ میں کام کرتا ہے۔مثلاً ایک شخص نماز پڑھتا ہے۔اس کا یہ عمل یقیناً اپنی ظاہری صورت میں اسلامی تعلیم کے عین مطابق ہے مگر ہوسکتا ہے کہ اس کا یہ عمل محض عادت یا رسم کے رنگ میں ہو۔اور دل کی نیت اور اخلاص پر اس کی بنیاد نہ ہو یا ہوسکتا ہے کہ اس کا یہ عمل محض نمائش یا دکھاوے کے طور پر ہو۔اور کسی دنیوی غرض کے ماتحت اختیار کیا گیا ہومگر ظاہر ہے کہ یہ سب صورتیں گو بظاہر دیکھنے میں عمل صالحہ ہیں مگر در حقیقت وہ ایک ایسا جسم ہیں جس کے اندر کوئی روح نہیں۔پس زندہ عمل وہی سمجھا جائے گا کہ جب انسان ایک اچھے کام کو دلی نیت کے ساتھ خدا کی رضا جوئی کی غرض سے بجالائے۔اسی لئے اسلام نے محض ظاہری عمل صالحہ کو کوئی حیثیت نہیں دی بلکہ بعض لحاظ سے اسے خدا کی ناراضگی کا موجب قرار دیا ہے۔چنانچہ قرآن شریف میں اللہ فرماتا ہے :- وَيْلٌ لِلْمُصَلِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلوتِهِمْ سَاهُونَ الَّذِينَ هُمْ يُرَاءُ وُنَ وَيَمْنَعُونَ الْمَاعُونَ ولا یعنی افسوس ہے ان نمازیوں پر جو اپنی نماز کی حقیقت سے غافل ہیں۔جو صرف دکھاوے کے لئے یہ کام کرتے ہیں اور نماز کی روح سے انہیں کوئی مس نہیں۔ان لوگوں نے صرف ایک خالی برتن کو اپنے پاس روک رکھا ہے اور اس کے اندر کی غذا کو جو اصل مقصود ہے ضائع کر چکے ہیں۔“ "