مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 411 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 411

۴۱۱ مضامین بشیر اعمال صالحہ کا فلسفہ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے اعمال صالحہ کے فلسفہ کو نہائت لطیف رنگ میں بیان فرمایا ہے۔اور بتایا ہے کہ کسی عمل صالحہ کو محض ظاہری صورت میں بجالا نا کچھ حقیقت نہیں رکھتا۔جب تک کہ اس کی تہہ میں وہ روح نہ ہو جو انسانی اعمال کو زندگی عطا کرتی ہے اور پھر ایک نہائت لطیف مثال دے کر یہ سمجھایا ہے کہ ایسا شخص جو ظاہر میں تو عمل صالحہ بجالاتا ہے مگر در حقیقت اس کی روح کی طرف سے غافل ہے وہ ایسا ہے کہ جیسے کوئی شخص کسی برتن کو تو مضبوطی کے ساتھ اپنے ہاتھ میں تھام رکھے مگر اس کے اندر کی غذا کو ضائع کر دے۔آیت میں جو ماعون کا لفظ ہے اس سے یہ سمجھنا کہ اس آیت میں گھروں کے عام استعمال کے برتنوں وغیرہ کے متعلق یہ حکم دیا گیا ہے کہ انہیں ایک دوسرے کو عاریہ دینے میں خست نہ برتا کرو۔میرے خیال میں درست نہیں۔اور نہ ہی اس مفہوم کو آیت کا سیاق و سباق برداشت کرتا ہے۔کیونکہ حقیقت نماز کے ارفع مضمون کے ساتھ اس نسبتا ادنی مضمون کا کوئی طبعی جوڑ نہیں کہ گھروں کے برتنوں کو روک نہ رکھا کرو۔پس میری رائے میں اس جگہ ماعون سے گھروں کے برتن وغیرہ مراد نہیں بلکہ عمل صالحہ کا ظاہری ظرف مراد ہے اور آیت کا منشاء یہ ہے کہ اسے مسلمانو ! جب تم نماز پڑھو تو نماز کی حقیقت کی طرف سے غافل ہو کر نماز نہ پڑھا کرو۔کیونکہ ایسا کرنے کے یہ معنی ہیں کہ ایک شخص برتن کو تو تھامے رکھے مگر اس کے اندر کی غذا کو ضائع کر دے۔یقیناً ایسی نماز جس میں صرف جسم ہی جسم ہوا اور اس کے ساتھ کوئی روح نہ ہو محض ایک مردہ چیز ہے۔جو کبھی بھی رضائے الہی کا موجب نہیں بن سکتی۔اگر کسی شخص کو الفاظ ماعون اور یہ منعون کے اس مفہوم کے ساتھ اتفاق نہ ہو جو اوپر کے مضمون میں بیان کیا گیا ہے تو پھر بھی میرے اس استدلال میں فرق نہیں آتا جو میں نے اس جگہ پر مندرجہ بالا آیات سے کیا ہے کیونکہ بہر حال ان آیات کا محکم اور مسلم حصہ اسی مفہوم کا حامل ہے کہ کئی لوگ دنیا میں ایسے ہیں جو بظا ہر نماز پڑھتے ہیں مگر نماز کی حقیقت سے قطعی طور پر غافل اور بے خبر ہیں اور یہی میرے مضمون کا مرکزی نقطہ ہے۔ایک دوسری جگہ قرآن شریف فرماتا ہے :- " لَنْ يَّنَالَ اللهَ لُحُومُهَا وَلَا دِمَاؤُهَا وَلَكِنْ يَّنَالُهُ التَّقْوَى مِنْكُمْ ٢٠ یعنی اے مسلمانو! جب تم خدا کی راہ میں قربانیوں کے جانوروں ذبح کرتے ہو تو یہ نہ سمجھو کہ ان جانوروں کا گوشت یا خون خدا کو پہونچتا ہے۔یعنی یہ خیال نہ کرو کہ ان قربانیوں کا گوشت یا خون کی رضا اور خوشی کا موجب ہوسکتا ہے۔بلکہ جو چیز خدا