مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 409 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 409

۴۰۹ مضامین بشیر جسم ہے جس کے اندر کوئی روح نہیں مگر جب زبان کے ظاہری اقرار کے ساتھ دل کا یقین بھی شامل ہو جاتا ہے تو پھر یہ ایمان ایک زندہ حقیقت کا رنگ اختیار کر لیتا ہے اور یہی وہ ایمان ہے جس کی خدا کے دربار میں قیمت پڑتی ہے۔اسی لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایمان کے متعلق یہ شرط قراردی ہے کہ اقرار باللسان و تصدیق بالقلب یعنی سچا ایمان وہ ہے جس میں زبان کے اقرار کے ساتھ دل کا یقین بھی شامل ہوا اور محض رسمی طور پر یا دکھاوے کے رنگ میں کوئی بات نہ کہی جائے۔جیسا کہ بدقسمتی سے آج کل کے اکثر مدعیان ایمان کا حال ہے۔الغرض محض ایمان جو زبان کے اقرار کا نام ہے ایک جسم ہے اور اس کی روح یقین ہے جس کے بغیر ایمان کو زندگی حاصل نہیں ہوتی اور پھر آگے یقین کے بھی کئی درجے ہیں مگر اس جگہ اس کی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں بلکہ یہاں صرف اس قدرا ظہار مقصود ہے کہ ایمان کی تکمیل کے لئے دل کا یقین ضروری ہے اور ان دونوں کے ملنے کے بغیر ایمان کی عمارت تکمیل نہیں ہوتی۔عمل صالحہ اور تقویٰ اس کے بعد عمل صالحہ کا سوال آتا ہے سو جیسا کہ اوپر اشارہ کیا گیا ہے عمل صالحہ بھی صرف ایک جسم ہے جو روح کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا اور اس کی روح تقویٰ ہے۔عمل صالحہ سے مراد وہ اعمال ہیں جو انسان بظاہر احکام شریعت کی اتباع میں بجالاتا ہے مثلاً نماز ، روزہ، حج، زکوۃ، صدقہ خیرات، عدل، انصاف وغیرہ۔یہ سب اعمال اسلامی تعلیم کے مطابق ہیں اور یقیناً اپنی ظاہری صورت کے لحاظ سے عمل صالحہ میں داخل ہیں لیکن وہ صرف ایک جسم ہیں۔جس کے اندر اگر روح نہ ہو تو اس کی کچھ بھی حقیقت نہیں اور اس جسم کی روح تقویٰ ہے۔جس کے ساتھ مل کر عمل صالحہ ایک زندہ چیز کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔اب سوال پیدا ہوتا ہے کہ تقویٰ کیا ہے؟ سو تقوی اس قلبی جذ بہ کا نام ہے جس کے ماتحت انسان خدا کی ناراضگی کے موقعوں سے بچتا اور اس کی رضا کے موقعوں کی تلاش کرتا ہے۔تقویٰ ہرگز کسی عمل کا نام نہیں اور نہ وہ ایسی چیز ہے جو ظاہر میں نظر آ سکے۔بلکہ تقوی اسپرٹ اور روح کا نام ہے جو ظاہری اعمال کے پیچھے دل کی گہرائیوں میں مخفی ہوتی ہے۔جس کے بغیر ایک بظاہر نیک نظر آنے والا عمل بھی ایک مردہ لاش سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا کیونکہ جس عمل کی بنیاد تقویٰ پر نہیں یعنی اس کی تہہ میں رضا جوئی کا جذبہ کام نہیں کرتا وہ یا تو محض رسم و عادت کے طور پر کیا جاتا ہے اور یا لوگوں کے دکھانے کی غرض سے اور یہ دونوں صورتیں یقیناً مردود ہیں۔پس اس بات میں ذرہ بھی شک نہیں کہ ایسا عمل جو تقویٰ کی روح سے خالی ہے ایک مردہ اور متعفن لاش سے زیادہ حقیقت نہیں رکھتا۔