مضامین بشیر (جلد 1) — Page 404
مضامین بشیر ۴۰۴ مستثنیات کو الگ رکھ کر خدا کی طاقت وقدرت کا اظہار خدا کی طاقت کے مطابق نہیں ہوتا بلکہ نبی کے ظرف اور اس کی قوتِ جذب کے مطابق ہوتا ہے یہی حال خلفاء کے معاملہ میں نظر آتا ہے۔یوں تو ہر نبی کے بعد خدائی تقدیر خلفاء کے ذریعہ انبیاء کی لائی صداقت کی تمکنت اور مضبوطی کا ذریعہ بنتی ہے مگر ہم عملاً دیکھتے ہیں کہ مختلف خلفاء کو مختلف قسم کی اور مختلف درجوں کی کامیابی حاصل ہوتی ہے اور ایسا نہیں ہوتا کہ وہ صرف ایک غیر مؤثر درمیانی واسطہ کی طرح خدائی طاقت کے اظہار کا ایک جیسا آلہ بنتے ہوں۔اس کی ایک عمدہ مثال ریڈیو سیٹ کے اصول پر سمجھی جاسکتی ہے۔جب کسی براڈ کاسٹنگ سٹیشن سے کوئی برقی پیغام فضا میں نشر کیا جاتا ہے تو ظاہر ہے کہ اس کی طاقت سب ریڈ یوسیٹوں کے لئے ایک ہی جیسی ہوتی ہے مگر باوجود اس کے ہر ریڈیو سیٹ اسے مختلف طاقت کے ساتھ قبول کرتا ہے اور اس کی طاقت کے مطابق اس کے اندر سے آواز نکلتی ہے۔یعنی بڑے سیٹ سے بلند آواز نکلتی ہے اور چھوٹے سیٹ سے دھیمی آواز کے ساتھ۔اسی طرح انبیاء اور خلفاء اور ان کی جماعتوں کا حال ہے کہ وہ بھی خدا کی نصرت کو اپنی طاقت اور ظرف کے مطابق قبول کرتے ہیں اور اپنی طاقت سے زیادہ کی برداشت نہیں رکھتے۔اس اصول کے مطابق کوہ طور پر حضرت موسی کے بے ہوش ہونے کا واقعہ بھی آسانی کے ساتھ سمجھا جاسکتا ہے۔حضرت موسی نے اپنے جوشِ شوق میں خدا سے اس کے کامل ظہور کے دیکھنے کی تمنا کی ، جو ازل سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات والا صفات کے لئے مقدر تھا۔اللہ نے فرمایا لو ہم تو اپنے کامل جلال کا اظہار کئے دیتے ہیں مگر تمہارے ریسیونگ سیٹ میں محمد رسول اللہ جیسی طاقت نہیں اس لئے تم اس کی برداشت نہیں کر سکو گے۔چنانچہ یہی ہوا کہ خدائی تجلی سے حضرت موسی بے ہوش ہو کر زمین پر جا پڑے اور پہاڑ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔لیکن یہی تجلی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر ظاہر ہوئی اور بار بار ظاہر ہوئی مگر آپ پوری مضبوطی کے ساتھ اپنی جگہ پر قائم رہے۔کیونکہ گو خدا ایک تھا مگر ان دونوں نبیوں کے ظرف اور قوت قبول میں بہت بھاری فرق تھا۔اس حقیقت کو اللہ تعالیٰ نے ایک اور رنگ میں بھی ظاہر کیا ہے فرماتا ہے :- " لَوْ اَنْزَلْنَا هَدَ الْقُرُانَ عَلى جَبَلٍ أَرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِعاً مِّنْ خَشْيَةِ الله كل یعنی قرآنی تجلی ایسی ہے کہ اگر اس کا نزول کسی مضبوط پہاڑ پر بھی ہو تو وہ بھی خدا کے جلال کے سامنے پھٹ کر ریزہ نیزہ ہو جائے۔“ عام لوگ خیال کرتے ہیں کہ پہاڑ پر قرآن کے نازل ہونے کے کیا معنی ہیں۔وہ نہیں سمجھتے کہ