مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 405 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 405

۴۰۵ مضامین بشیر اس نزول سے قرآنی وحی کا نزول مراد نہیں بلکہ یہ مراد ہے کہ خدا نے جس توجہ اور جس جلال اور جس طاقت کے ساتھ قرآنی وحی کو محمد رسول اللہ کے قلب پر نازل کیا۔اگر وہ اسی طاقت اور اسی جلال کے ساتھ ایک پہاڑ پر اپنی توجہ ڈالے تو وہ پہاڑ چکنا چور ہو کر گر جائے اور یہ دعا بالکل درست ہے جیسا کہ طور کا واقعہ اس پر عملاً شاہد ہے۔غیر معمولی ظرف رکھنے والا خلیفہ اس تمہید سے میری مراد یہ ہے کہ یہ خیال کر لینا کہ جماعت خدا کی ہے وہ خود اس کا حافظ وناصر ہوگا اور ہر حال میں اس کی قدرت کا اظہار ایک جیسا ہی رہے گا اور خدا چاہے تو ایک مردہ لکڑی سے بھی ہر کام لے لے۔بیشک مطلق طور پر خدائی قدرت کے لحاظ سے تو درست ہے اور بعض خاص استثنائی حالات میں اس قسم کی قدرت کا اظہار ہوتا بھی ہوگا۔مگر جہاں تک عام حالات میں خدا کی قدرت کے اظہار کا تعلق ہے یہ خیال ہرگز درست نہیں کیونکہ گو خدا وہی ہے اور وہی رہے گا مگر اس کی نصرت کا اظہار نصرت حاصل کرنے والے کے ظرف اور قوتِ جذب پر موقوف ہے اور یقیناً خدا نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کو جو ظرف عطا کیا ہے وہ ایک غیر معمولی ظرف ہے جو بہت کم لوگوں کو ملتا ہے۔پس آپ سے محروم ہونے سے ہم صرف آپ کی ذات سے ہی محروم نہیں ہوں گے۔بلکہ ان خدائی جلوہ نمائیوں سے بھی محروم ہو جائیں گے جو حضرت خلیفہ اصسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے وسیع ظرف کے ساتھ مخصوص ہیں۔اور اگر بعد آنے والا خلیفہ اس ظرف کا نہ ہوا ( جیسا کہ بظاہر حالات اس کا امکان بہت کم ہے۔واللہ اعلم ) تو گو خدا کی نصرت پھر بھی بہر حال ہمارے ساتھ ہو گی مگر ہم لاز ما اپنی ظرف اور قوت جذب کے مطابق ہی اس کی نصرت سے حصہ پائیں گے۔پس اس جہت سے بھی حضرت امیر المومنین خلیفہ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کے متعلق جماعت کو خاص بلکہ اخص دعاؤں اور غیر معمولی صدقہ و خیرات سے کام لینا چاہیئے۔خدا ہمارے لئے یہ سنہری زمانہ لمبا کر دے ہم دنیا میں خدا کی آخری جماعت ہیں اور باپ کو اپنا آخری بچہ بہت محبوب ہوا کرتا ہے اور یقیناً ہماری بہت سی کمزوریوں اور خامیوں کے باوجود اللہ تعالیٰ ہمارے ذریعہ پنی آخری تقدیر کو جو اس کی تقدیروں میں سے ایک نہایت ز بر دست تقدیر ہے ضرور پورا کرے گا اور اس کے ارادے کو کوئی نہیں روک سکتا۔مگر بہر حال ہم اس کی اس پختہ سنت سے باہر نہیں