مضامین بشیر (جلد 1) — Page 387
۳۸۷ مضامین بشیر تشریح کی جاسکتی ہے اور ان کے علاوہ بعض اور وجوہات بھی ہیں جو اس قسم کے حادثات کی تہہ میں کام کرتی ہیں مگر اس مختصر سے نوٹ میں ان سب کے بیان کرنے کی گنجائش نہیں لیکن خواہ وجہ کچھ بھی ہو۔یہ ایک ٹھوس حقیقت ہے جو بھی بدل نہیں سکتی کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت کو ایسے رنگ میں بنایا ہے کہ کسی محبت کے رشتہ کے کٹنے پر انسان کا دل خون ہونے لگتا اور طبیعت میں ایک خطر ناک تلاطم برپا ہو جاتا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ جیسے ایک زندہ جسم کا زندہ ٹکڑا کاٹ کر علیحدہ کیا جا رہا ہے۔مگر خدائی تقدیر کو ٹالنے کی کسی میں طاقت نہیں اور خواہ انسان صبر کرے یا جزع فزع سے کام لے بہر حال اسے مشیت الہی کے سامنے جھکنا پڑتا ہے تو پھر کیوں نہ صبر و رضا کے ساتھ جھکا جائے اور ایک جاری شدہ تقدیر کو انشراح صدر سے قبول کر لیا جائے۔صبر ورضا کی کیفیت کو پیدا کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں عام انسانی عقل کی بھول بھلیاں میں نہیں چھوڑ دیا بلکہ خود اپنی طرف سے ایک ایسے لطیف گر کی تعلیم دی ہے جو تمام فلسفہ صبر و رضا کی کلید ہے۔فرماتا ہے کہ جب اس دنیا میں کسی مومن کو کوئی تکلیف یا صدمہ پہونچے تو اسے فوراً دو باتوں کو یاد کر لینا چاہیئے۔اول یہ کہ انسان کی زندگی دنیا کے لئے یا دوسرے انسانوں کے لئے نہیں ہے بلکہ خدا کے لئے ہے۔اس لئے خواہ اسے دوسری چیزوں کی طرف سے کتنا ہی صدمہ پہونچے۔جب اس کا خالق و مالک خدا زندہ موجود ہے۔جس پر کبھی موت نہیں آسکتی تو کوئی صدمہ اس کے لئے ناقابل برداشت نہیں ہونا چاہیئے۔دوم یہ کہ موت انسان زندگی کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ صرف ایک درمیانی دروازہ ہے جس سے انسان زندگی کے ایک دور میں سے نکل کر دوسرے دور میں داخل ہو جاتا ہے اور بالآخر خدا کے پاس سب اگلے پچھلوں نے جمع ہو جانا ہے۔پس موت کی جدائی ایک عارضی جدائی ہے جس کے بعد انشاء اللہ پھر ملنا ہو گا مگر یہ ضروری ہے کہ انسان خدا کے ساتھ اتحاد قائم رکھے کیونکہ یہ آخری اجتماع خدا کے پاس ہونے والا ہے اور وہاں وہی لوگ آپس میں مل سکیں گے جو خدا کا قرب حاصل کرنے کے قابل ہوں۔یہی وہ گہری حقیقت ہے جسے قرآن کریم نے إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُون کے مختصر مگر وسیع المعانی الفاظ میں بیان کیا ہے۔یعنی اے مومنوتم یقین رکھو کہ ہماری زندگی خدا کے لئے ہے اور بالآخر ہم سب پھر خدا کے پاس جمع ہو جائیں گے۔پس اے ہماری جدا ہونے والی بچی امتہ الودود! بیشک تیری جدائی کا صدمہ بہت بھاری ہے اور تیری بظاہر بے وقت موت ایسی ہے کہ جیسے کسی نے ہمارے زندہ جسم کے ایک زندہ حصہ کو کاٹ کر جدا کر دیا۔جس کی وجہ سے ہماری روحیں درد کی شدت سے تلملا رہی ہیں مگر یہ صرف ایک مادی عالم کے مادی قانون کا مظاہرہ ہے ورنہ ہم جانتے ہیں کہ تیری زندگی خدا کے لئے تھی اور ہم جانتے ہیں کہ