مضامین بشیر (جلد 1) — Page 388
مضامین بشیر ۳۸۸ ہماری زندگی بھی خدا کے لئے ہے اور پھر ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم سب نے آگے اور پیچھے اپنے آسمانی باپ کی گود میں جمع ہونا ہے۔تجھے خدا نے اپنی کسی بار یک دربار یک مصلحت سے آغا ز شباب میں ہی بلا لیا جبکہ تو ابھی زندگی کی ڈیوڑھی میں قدم رکھ رہی تھی اور ہمیں اس نے اپنی کسی دوسری مصلحت سے زندگی کے تلاطم میں چھوڑ رکھا ہے۔ہم نہیں جانتے کہ تیری حالت بہتر ہے یا ہماری مگر بہر حال ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہم سب خدا کے لئے ہیں اور جلد یا بدیر اسی کے پاس جمع ہوں گے۔ہاں ایک لحاظ سے تیری حالت ضرور بہتر ہے کہ تو اپنے خدا کے پاس پہونچ گئی اور ہم ابھی انتظار میں ہیں تو اس بزرگ ہستی یعنی اپنے دادا کی گود میں جابیٹھی جس سے ہمارے خاندان کی ساری عزتیں ہیں اور ہم اپنے خاندان کے ان نو نہالوں پر نظر جمائے کھڑے ہیں جن کے متعلق ہم نہیں جانتے کہ ان کا مستقبل کیا نکلتا ہے شائد وہ ایسے اچھے نکلیں کہ سب اگلے پچھلوں کے لئے موجب فخر بن جائیں اور شائدان میں سے کوئی حصہ کمزوری دکھانے والا ہو۔یہ سب اللہ کے علم میں ہے۔ہمارا کام صرف یہ دُعا کرنا ہے رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَّاجَعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔٢ ہمارے خاندان کے لئے عزیزہ امتہ الودود کی وفات دو لحاظ سے ایک سبق ہے۔جس سے ہمارے خاندان کے نونہالوں کو فائدہ اٹھانا چاہیئے۔اول مرحومہ کی جوانی کی وفات اور پھر اچانک وفات ہمیں اس بات کا سبق دیتی ہے کہ بچپن یا جوانی کی عمر اس بات کی ہرگز ضامن نہیں ہے کہ اس عمر میں انسان موت سے محفوظ ہوتا ہے بلکہ موت ہر عمر میں آ سکتی ہے۔پس انسان کو اپنی عمر کے ہر حصہ میں خدا کے پاس حاضر ہونے کے لئے تیار رہنا چاہیئے۔اسی طرح یہ بھی ضروری نہیں کہ وفات سے پہلے انسان کو آخرت کی تیاری کے لئے کوئی خاص موقع ملے بلکہ ہوسکتا ہے کہ وفات اچانک واقع ہو جائے۔اس لئے انسان کو ہر لحظہ اور ہر گھڑی موت کے لئے تیار رہنا چاہیئے۔اور یہی اس قرآنی آیت کی عملی تشریح ہے کہ لَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ۔اور یہ ایک از حد خوشی کا مقام ہے ا۔کہ باوجود اس کے کہ عزیزہ امتہ الودود کی وفات بالکل نو جوانی میں ہوئی اور پھر با وجود اس کے کہ موت اچانک ہوئی۔حتی کہ مرحومہ کی مختصر بیماری کا آغاز بھی نیند کی حالت میں ہوا لیکن پھر بھی جیسا کہ اس کا انجام ظاہر کرتا ہے۔ملک الموت نے اسے خدائی دربار کے لئے تیار پایا۔پس ہمارے خاندان کے دوسرے بچوں اور نوجوانوں کو بھی اسی طرح اپنے رب کی حاضری کے لئے تیار رہنا چاہیئے کیونکہ کون کہہ سکتا ہے کہ کب پیغام آ جائے۔دوسرا سبق جو ہمیں مرحومہ کی وفات سے حاصل ہوتا ہے۔وہ اس محبت کے مظاہرہ سے تعلق رکھتا ہے جو ہمارے اس صدمہ میں جماعت کے دوستوں کی طرف سے ہوا۔میں ان جذبات شکر کے