مضامین بشیر (جلد 1) — Page 386
مضامین بشیر ۳۸۶ نظر آئیں یا تلخی اور دردمندی کے سوا ان میں بھی کوئی اور پہلو دکھائی نہ دیتا ہو مگر حقیقہ ان میں بھی خدا تعالیٰ کی گہری مصلحت کام کرتی ہے اور تلخی کی تہہ کے نیچے کوئی نہ کوئی رحمت کا چشمہ جھلک رہا ہوتا ہے۔یہی وہ فلسفہ حیات ہے جس سے عارف لوگ اپنے صدمات میں تسکین پاتے ہیں۔دراصل غور کیا جائے تو اکثر بے وقت موتیں اپنے اندر کئی قسم کی مصلحتیں رکھتی ہیں مثلاً : (۱) بعض اوقات ایک بچہ خدا کے علم میں کم عمری میں ہی اس مخصوص غرض و غایت کو پورا کر دیتا ہے جو خدا کے علم میں اس کی ولادت کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے۔جس پر خدا تعالیٰ اسے دُنیا کی عملی زندگی میں قدم رکھنے سے پہلے ہی اپنے پاس بلا لیتا ہے اور اس صورت میں اس کی موت اپنے رنگ میں ایک کامیاب موت ہوتی ہے جیسا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صاحبزادے ابراھیم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فرزند بشیر اول کے معاملہ میں ہوا جن کی بلند فطری استعدادوں کے باوجود جو ایک اعلیٰ مستقبل کی خبر دیتی تھیں۔خدا تعالیٰ نے انہیں بچپن میں ہی وفات دے کر اپنے پاس بلا لیا کیونکہ وہ اپنی ولادت کی مخصوص غرض وغایت کو پورا کر چکے تھے بلکہ ان کی بظاہر قبل از وقت وفات بھی ان کی ولادت کی غرض وغایت کا حصہ تھی۔(۲) بعض اوقات ایک بچہ کی صغرسنی کی وفات مستقبل کے لحاظ سے خود اس کے اپنے لئے مفید ہوتی ہے اور خدا تعالیٰ بظاہر ایک تلخ مگر در پردہ رحمت کا ہاتھ مار کر اسے ایک اچھے وقت میں وفات دے کر آئیندہ خطرات سے بچا لیتا ہے لیکن ضروری نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کی یہ مصلحت لوگوں پر بھی ظاہر ہو۔(۳) بعض اوقات ایک بچہ کی وفات اس کے عزیزوں یا دوسرے لوگوں کے لئے بعض جہات سے مفید نتائج پیدا کرنے والی ہوتی ہے۔جنھیں انسان کی ظاہر بین آنکھ نہیں دیکھتی مگر اللہ تعالیٰ کا وسیع علم ان پر حاوی ہوتا ہے اور اس صورت میں خدا تعالیٰ بچہ کو بظا ہر قبل از وقت وفات دے کر اس کے متعلقین کے لئے ایک آئندہ آنے والی رحمت کا دروازہ کھول دیتا ہے۔(۴) بعض اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی شخص کی وفات میں قانون شریعت کے ماتحت کوئی مخصوص غرض مد نظر نہیں ہوتی بلکہ صرف یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص قضاء وقدر کے عام قانون کی زد میں آ کر وفات پا جاتا ہے۔چونکہ عام حالات میں قانونِ قضاء وقد ر ا ور قانون شریعت علیحدہ علیحدہ دائروں میں کام کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے حلقہ عمل میں دخل انداز نہیں ہوتے۔اس لئے کسی شخص کا نیک ہونا اسے قضاء وقدر کی زد سے محفوظ نہیں رکھ سکتا اور اللہ تعالیٰ کی تقدیر عام اپنا کام کر جاتی ہے۔یہ وہ چند استثنائی صورتیں ہیں جن کے ماتحت دنیا کے بہت سے تلخ یا بظاہر بے وقت حادثات کی