مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 353 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 353

۳۵۳ مضامین بشیر احمدیہ کے قرضوں کی ادائیگی کے لئے چندہ خاص اور پھر مسجد اقصیٰ اور مسجد مبارک اور مینارۃ المسیح کے لئے خاص تحریکات ہو رہی ہیں اور جماعت کی مالی طاقت نہایت محدود ہے۔اس لیئے اس موقع پر خلافت جو بلی فنڈ کے چندے کی تحریک یقیناً جماعت کے لئے ایک بھاری بوجھ کا باعث سمجھی جاسکتی ہے لیکن یہ بوجھ بہر حال جماعت نے ہی اٹھانے ہیں اور قربانی کے جس مقام پر جماعت کو کھڑا کیا گیا ہے، اس کے پیش نظر یہ بوجھ کوئی حقیقت نہیں رکھتے۔ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ سلسلہ کا مال ہے۔اور ہمارا احمدیت کے عہد کو قبول کرنا یہی معنی رکھتا ہے کہ ہم نے اس بات کو تسلیم کر لیا ہے کہ ہم اپنے آپ کو اپنے مالوں کا مالک نہیں بلکہ صرف امین خیال کریں گے اور خدا کی طرف سے آواز آنے پر اپنے اموال کی پائی پائی لا کر سلسلہ کے قدموں میں ڈال دیں گے۔یہی وہ رُوح ہے جو خدا ہمارے اندر پیدا کرنا چاہتا ہے اور یہی وہ رُوح ہے جو ہمیں کامیابی کا مونہہ دکھا سکتی ہے۔عظیم الشان ذمہ واری کو پہچانیں پس اب جبکہ خلافت جو بلی کا وقت قریب آ رہا ہے۔میں دوستوں سے یہ تحریک کرنا چاہتا ہوں کہ وہ اس بارے میں اپنی عظیم الشان ذمہ واری کو پہچانیں اور ایسی قربانی کا نقشہ پیش کریں جو ان کی شان کے مطابق ہے۔شان سے میری مراد مالی شان نہیں ہے کیونکہ مالی لحاظ سے تو ہم ایک بہت غریب جماعت ہیں بلکہ شان سے میری مراد ایمان کی شان ہے۔جس کے آگے کوئی قربانی بڑی نہیں سمجھی جا سکتی۔بعض لوگ یہ خیال کرتے ہوں گے کہ ان کے پاس کوئی روپیہ نہیں میں کہتا ہوں کہ اگر نقد روپیہ نہیں ہے تو اکثر لوگوں کے پاس کچھ نہ کچھ جائیداد تو ہے خواہ وہ زمین اور مکان کی صورت میں ہو یا زیور وغیرہ کی صورت میں۔پس جس شخص کے پاس کوئی جائداد ہے وہ بھی اسی طرح اس ذمہ داری کے نیچے ہے جس طرح کہ نقد روپے والا اس کے نیچے ہے۔اگر ہم اپنے بیاہ شادیوں کے موقع پر اپنی جائدادوں کا ایک حصہ رہن یا بیع کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہیں تو کیا وجہ ہے کہ سلسلہ کی ایک خاص خوشی کے موقع پر جو گو یا جماعت کی شادی کا موقع ہے ہم اپنی خوشی اور ایمان کے مطابق خرچ نہ کریں۔خصوصاً جبکہ افراد کی شادی کے موقع پر خرچ کیا ہوا روپیہ ضائع چلا جاتا ہے مگر یہ روپیہ سلسلہ کی ضروریات پر خرچ ہو گا اور انشاء اللہ قیامت تک کے لئے صدقہ جاریہ کا کام دے گا۔پس اے دوستو! اپنی ذمہ واری کو پہچا نو اور اپنے ایمان اور اخلاص کے امتحان کے لئے تیار ہو جاؤ۔دشمن کی نظر ہمارے اوپر ہے اور وہ دیکھ رہا ہے کہ تم اپنے پیارے سلسلہ اور خلافت حقہ کے