مضامین بشیر (جلد 1) — Page 354
مضامین بشیر ۳۵۴ لئے قربانی کا کیا نمونہ دکھاتے ہو۔سلسلہ کے کام تو بہر حال ہوکر رہیں گے۔کیونکہ یہ ایک ازل سے جاری شدہ آسمانی قضاء ہے جو ہر گزٹل نہیں سکتی۔مگر مبارک ہے وہ جو اس آسمانی قضاء کی تکمیل میں حصہ دار بنتا ہے۔وہ دنیا میں خدا ہی کے دیئے ہوئے مال سے کچھ تھوڑا سا مال خدا کو واپس دے کر اپنے لیئے نہ صرف دنیا میں لسان صدق حاصل کرتا ہے بلکہ جنت میں بھی ایک ایسے مکان کی بنیاد رکھتا ہے جسے کبھی زوال نہیں۔اللہ تعالیٰ ہماری آنکھیں کھولے اور ہمیں اس قربانی کی توفیق دے جو خدا کی آخری جماعت کے شایانِ شان ہے۔اے اللہ ! تو ایسا ہی کر اور ہمیں اپنے فضل۔دنیا و آخرت میں کامل سرخروئی عطا فرما کیونکہ کوئی توفیق تیرے فضل کے بغیر حاصل نہیں ہوسکتی۔امين اللهم امين جو بلی فنڈ کہاں خرچ ہوگا بعض لوگ دریافت کیا کرتے ہیں کہ خلافت جو بلی فنڈ کا چندہ کہاں خرچ ہوگا۔اس کا یہ جواب ہے جو سب دوستوں کو یاد رکھنا چاہیئے کہ یہ رقم جمع کر کے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے سامنے پیش کر دی جائے گی اور پھر حضور اسے سلسلہ کے مفاد میں جس طرح پسند فرمائیں گے خرچ فرمائیں گے۔یعنی اس کے خرچ کے متعلق چندہ پیش کرنے والوں کی طرف سے کوئی حد بندی یا قید نہیں ہوگی کہ ضرور فلاں مد میں خرچ کی جائے۔یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ مثلاً یہ روپیہ ضرور سلسلہ کی تبلیغ میں خرچ کیا جائے یا ضرور جماعت کی تعلیم و تربیت میں خرچ کیا جائے۔وغیر ذالک بلکہ خرچ کی مدیا مدات کا فیصلہ کرنا کلیۂ حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے اختیار میں ہو گا کہ خواہ وہ اسے تبلیغ میں خرچ فرما ئیں یا تعلیم و تربیت میں خرچ فرمائیں یا جماعت کے بیت المال کی مضبوطی میں خرچ فرمائیں یا مرکز سلسلہ کی مضبوطی میں خرچ فرما ئیں یا کسی اور مد میں جسے حضور پسند فرما ئیں اسے خرچ کریں۔اس معاملہ میں جماعت کی طرف سے کوئی شرط یا حد بندی نہیں ہوگی اور جماعت کو بہر حال یہ یقین رکھنا چاہیئے اور اسے یہ یقین ہے کہ حضور اس رقم کو اس سے بہتر مصرف میں لائیں گے جو جماعت خود مقرر کر سکتی ہے۔قادیان کے دوستوں سے مجھے اپنے مفوضہ کام کے لحاظ سے چونکہ صرف قادیان کی مقامی جماعت کے چندہ سے تعلق ہے اس لئے میں اس موقع پر قادیان کے دوستوں کی خدمت میں خصوصیت کے ساتھ عرض کرنا چاہتا ہوں