مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 329 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 329

۳۲۹ مضامین بشیر نہیں تو تجارت ہی سہی تجارت نہیں تو مزدوری ہی سہی۔زیادہ معاوضہ والا کام نہیں تو کم معاوضہ والا کام ہی سہی۔بہر حال اگر انسان نا واجب شرطیں نہ لگائے اور ہر قسم کے دیانت داری کے لئے تیار ہو۔تو دنیا میں اب بھی کام کی قلت نہیں ہے۔مجھے یاد ہے حضرت خلیفۃ امسیح اول رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ میں ایک دفعہ بیکار تھا تو میں نے دوروپے ماہوار کی نوکری قبول کر لی تھی۔اگر حضرت خلیفہ اول جیسی بلند مرتبہ ہستی دوروپے کی نوکری قبول کر سکتی ہے تو اور کون ہے جو اسے اپنی شان کے خلاف سمجھ سکتا ہے مگر میں کہتا ہوں کہ اگر بالفرض واقعی کسی قسم کا کام نہیں ملتا تو پھر آنریری کام ہی سہی اس کا دروازہ تو ہر وقت کھلا ہے اور ہم بتا چکے ہیں کہ تربیتی لحاظ سے وہ بے کاری کے انسداد کی بالکل صحیح تدبیر ہے۔شایان شان کا م نہ ملنے سے بیکاری تیسری قسم بے کاری کی یہ ہے کہ کام تو ملتا ہے مگر انسان اسے اپنی پوزیشن کے خلاف سمجھ کر اختیار نہیں کرتا اور بیکاری میں وقت گزارتا ہے۔یہ گروہ سب سے زیادہ زیر ملامت ہے کیونکہ اول تو وہ تکبر اور خود بینی کی مرض میں مبتلا ہے اور اپنے مونہہ میاں مٹھو بن کر خود ہی بڑھ چڑھ کر اپنی قیمت لگا لیتا ہے۔دوسرے وہ بے وقوف بھی ہے کہ اپنی فرضی شان اور نام نہاد پوزیشن کو بچانے کے لئے بدترین قسم کی اخلاقی اور دینی بیماریوں میں مبتلا ہونا پسند کرتا ہے۔ایسے لوگوں کو جس قدر جلد بیدار کیا جا سکے کرنا چاہیئے اور صاف بتا دینا چاہیئے کہ تمہاری موجودہ قیمت وہی ہے جو بازار میں ملتی ہے ، نہ کہ وہ جو تم سمجھتے ہو۔حدیث میں آتا ہے کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد چوتھے خلیفہ ہوئے اور آپ کے داماد بھی تھے۔بسا اوقات جنگل سے گھاس کاٹ کر لاتے اور اسے بازار میں بیچ کر اپنا گزارہ کرتے تھے اور دوسرے عالی قدر صحا بہ بلکہ خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم بھی ہر قسم کا کام اپنے ہاتھ سے کرتے اور کسی کام کو اپنی شان کے خلاف نہیں سمجھتے تھے بلکہ ایک موقع پر تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مزدوروں کی طرح پتھر اور مٹی کو اپنے کندھوں پر اٹھا اٹھا کر اِدھر ادھر پہونچایا۔اور آپ کا جسم مبارک مٹی اور گردو غبار سے ڈھک گیا اور ایک زمانہ میں آپ نے بکریاں بھی چرا ئیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی ہر قسم کا کام کر لیتے تھے اور بسا اوقات خود اپنے ہاتھ میں پانی کا لوٹا لے کر نالیاں وغیرہ صاف کرواتے تھے۔اور جوانی کے زمانہ میں آپ سیالکوٹ میں صرف چند روپے تنخواہ پر ملازم بھی رہے تھے اور آپ اکثر فرمایا کرتے تھے۔میں ایک پیسہ کے چنوں پر گزارہ