مضامین بشیر (جلد 1) — Page 330
مضامین بشیر کر سکتا ہوں۔جھوٹے اور متکبرانہ عذرات ۳۳۰ اگر یہ عظیم الشان ہستیاں جن سے ہم نے ساری عزتیں حاصل کی ہیں ، کسی کام کو اپنی شان کے خلاف نہیں سمجھتی تھیں تو ہم کون ہیں کہ اپنی فرضی شان اور نام نہاد پوزیشن کو جائز اور دیانت داری کے کاموں سے بالا قرار دیں۔پس یہ سب جھوٹے اور متکبرانہ عذرات ہیں جن سے ایک کام سے دل پچرانے والا انسان اپنے قیمتی اوقات کو ضائع کرنے کا بہانہ ڈھونڈھتا ہے اور ہمارے دوستوں کو ان باتوں سے گلی طور پر بچنا چاہیئے۔خوب یا درکھو کہ ہر وہ کام جس میں کسی قسم کی بدیانتی یا دنانت کا دخل نہیں اور وہ شریعت کے خلاف نہیں ، وہ ایک جائز اور معزز کام ہے اور اسے ذلیل سمجھنا خود اپنی ذلت کا ثبوت دینا ہے اور کسی قوم کے تنزل کا اس سے بڑھ کر کوئی سبب نہیں ہو سکتا کہ وہ جائز اور دیانت داری کے کاموں کو اپنے لئے موجب ذلت سمجھے اور اس خیال کی وجہ سے اس کے نوجوان اپنی زندگیوں کو بریکاری میں ضائع کر دیں مگر میں کہتا ہوں کہ اگر ہم میں سے ایک طبقہ ابھی تک اپنے اندر سے اس قسم کے تکبر اور خود بینی کے جذبات کا استیصال نہیں کر سکا تو وہ آئے اور آنریری طور پر ہی اپنی خدمات پیش کر دے اور وقت کو ضائع کرنے کی بجائے اسے جماعت کی خدمت میں صرف کرے لیکن اگر وہ ایسا بھی نہیں کرتا تو وہ یقیناً جماعت کا خائن ہے اور ہر گز اس قابل نہیں کہ ایک پاک جماعت کا حصہ بن کر رہے۔آسودہ حالی کی وجہ سے بیکاری چوتھی قسم بریکاری کی یہ ہے کہ انسان کو کام بھی مل سکتا ہو اور بزعم خود اپنی شان کے مطابق بھی مل سکتا ہو مگر اس خیال سے کہ میری جائیداد کی آمد کافی ہے وہ اپنے قیمتی وقت کو بے کاری میں ضائع کرتا رہے۔یہ مرض آج کل ہندوستانی رؤ سا میں بہت عام ہے اور اخلاقی لحاظ سے ویسا ہی خطرناک ہے جیسا کہ دوسری قسم کی بیکاریاں اور یہ مرض اس گندی ذہنیت کا نتیجہ ہے کہ کام کو صرف حصولِ مال کا ذریعہ سمجھا گیا ہے اور اس کے سوا اس کی کوئی اور قیمت نہیں پہچانی گئی۔حالانکہ کام کی قیمتوں میں سے حصول مال ایک بہت ہی ادنیٰ درجہ کی قیمت ہے اور اس کی اعلیٰ قیمت اس کے دوسرے ا پہلوؤں سے تعلق رکھتی ہے۔پس کوئی وجہ نہیں کہ اگر کسی شخص پر خدا تعالیٰ کا اس رنگ میں فضل ہے کہ اسے اپنے کھانے کے