مضامین بشیر (جلد 1) — Page 323
۳۲۳ مضامین بشیر خلافت جو بلی فنڈ مخلصین قادیان سے اپیل خلافت جو بلی فنڈ کے تعلق میں گزشتہ رات جو جلسہ مسجد اقصیٰ میں منعقد ہوا تھا، اس میں جماعت قادیان نے پچیس ہزار روپیہ فراہم کرنے کی ذمہ داری لی تھی اور خاکسار راقم الحروف کو کمیٹی برائے فراہمی چندہ کا رکن منتخب کیا گیا تھا۔گو اخلاص اور قربانی کی روح کے سامنے یہ رقم کوئی حقیقت نہیں رکھتی لیکن جماعت قادیان کی عام مالی حالت کے پیش نظر اور ان غیر معمولی چندوں کو مدنظر رکھتے ہوئے جو اس سال در پیش ہیں یہ رقم ایک کافی بھاری رقم ہے جس کا پورا کرنا خاص جد و جہد اور منتظم کوشش چاہتا ہے۔جیسا کہ رات کی تقریروں میں اس بات کو واضح کیا گیا تھا، یہ تجویز اس لحاظ سے ایک نہائت اہم تجویز ہے کہ اس کے ذریعہ سے جماعت کے ان جذبات شکر و امتنان کا امتحان متصور ہے جو اس کے دل میں سلسلہ عالیہ احمدیہ اور خلافت کے متعلق قائم ہیں۔کیونکہ خدا کے فضل سے ۱۹۳۹ء کے اوائل میں اگر ایک طرف خلافت ثانیہ کے پچیس سال پورے ہورے ہیں تو دوسری طرف انہی ایام میں سلسلہ احمدیہ کے قیام پر بھی پچاس سالہ معیاد پوری ہوتی ہے۔اس طرح اس فنڈ کو کامیاب بنا کر ہمارے دوست اس بات کا عملی ثبوت دیں گے کہ وہ ان ہر دو عظیم الشان نعمتوں یعنی قدرت اولی اور قدرت ثانیہ کی قدر کو پہچانتے اور ان کے لئے ہر قسم کی قربانی کرنے کے لئے تیار ہیں اور اب جبکہ یہ تجویز پبلک کے سامنے آچکی ہے تو اس تجویز کو کامیاب بنانا قومی غیرت کا بھی اولین تقاضا ہے۔پس میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے قادیان کے دوست جنہوں نے خدا کے فضل سے اس وقت تک ہر قسم کی قربانی کا بہترین نمونہ دکھایا ہے اس موقع پر بھی دوسروں کے لئے ایک اعلیٰ نمونہ بننے کی کوشش کریں گے۔اور اپنے عمل سے یہ ثابت کر دیں گے کہ وہ حقیقی معنوں میں خدائی سلسلہ کی مرکزی جماعت ہیں۔اپنے دوستوں کی آگاہی کے لئے میں یہ بھی بتا دینا چاہتا ہوں کہ کسی شخص کی چندہ دینے کی طاقت صرف اس کی ماہوار یا سالانہ آمد سے پر کبھی نہیں جاتی بلکہ جائیداد بھی چندہ دینے کی طاقت کا حصہ ہے۔اور اگر ایک شخص ایسا ہے کہ وہ اپنی جائیداد کا کوئی حصہ بیچ یا رہن کر کے ایک نیک تحریک میں حصہ لے