مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 322 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 322

مضامین بشیر ۳۲۲ نے تقسیم ورثہ کو اسلامی شریعت کے مطابق قائم کرنے کی جماعت میں پر زور تحریک فرمائی ہے تو اس بات کی اشد اور فوری ضرورت ہے کہ سلسلہ کے علماء اس مسئلہ کے متعلق اچھی طرح غور کر کے اسے صحیح اسلامی صورت میں قائم کر دیں۔جہاں تک میں سمجھتا ہوں کہ اس مسئلہ کی تحقیق کا صحیح طریق یہ ہے کہ مندرجہ ذیل عنوانوں کے ماتحت غور کیا جائے : (۱) قرآن شریف سے اس مسئلہ کے متعلق کیا استدلال ہوتا ہے؟ (۲) حدیث اس مسئلہ میں کیا کہتی ہے۔(۳) آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانہ کا تعامل کیا ثابت ہوتا ہے۔(۴) بعد کے آئمہ اسلام نے اس مسئلہ کے متعلق کیا کیا رائے ظاہر کی ہے۔(۵) آیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام یا آپ کے خلفاء کے کسی فتوی سے اس مسئلہ کے متعلق کوئی روشنی پڑتی ہے۔میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے علماء اور مفتیان سلسلہ اس مسئلہ کے متعلق فوری تحقیق فرمائیں گے۔تا کہ ان کی رائے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش کر کے حضور کا فیصلہ حاصل کیا جا سکے۔اس نوٹ کے لکھنے کے بعد مجھے بتایا گیا ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کسی کتاب میں اس مسئلہ کی عام مسلّمہ صورت کو صحیح تسلیم کیا ہے میں نے یہ حوالہ نہیں دیکھا لیکن اگر یہ درست ہے تو بہر حال مندرجہ بالا تحقیق کے نتیجہ میں وہ حوالہ بھی سامنے آجائے گا مگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے متعلق یہ بات مدنظر رکھنی چاہیئے کہ بعض اوقات آپ کا یہ طریق ہوتا تھا کہ ایک فقہی مسئلہ کو عامۃ المسلمین کی مسلمہ صورت میں نقل فرما دیتے تھے اور اس جگہ آپ کی غرض یہ ہوتی تھی کہ اس مسئلہ میں عام مسلمانوں کا یہ خیال ہے اپنی ذاتی رائے اور تحقیق کا اظہار مقصود نہیں ہوتا تھا۔بہر حال ہمارے دوست جب اس تحقیق میں قدم رکھیں گے تو ساری حقیقت ظاہر ہو جائے گی۔( مطبوعه الفضل ۲۶ ایریل ۱۹۳۸ء)