مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 26 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 26

مضامین بشیر ۲۶ غیر جانبدارانہ اور منصفانہ تنقید خیال کر کے دھو کہ میں آجائیں لیکن نہ معلوم میں نے ڈاکٹر صاحب کا کونسا ایسا سنگین جرم کیا ہے جس کی وجہ سے وہ میرے خلاف ایسے غضبناک ہو گئے ہیں کہ اور نہیں تو کم از کم اپنے مضمون کو مقبول بنانے کے لئے ہی ان کے ذہن میں یہ خیال نہیں آتا کہ جہاں اتنے عیوب بیان کئے ہیں وہاں دو ایک معمولی سی خوبیاں بھی بیان کر دی جائیں۔مضمون تو اس عنوان سے شروع ہوتا ہے کہ سیرت المہدی پر ایک نظر مگر شروع سے لے کر آخر تک پڑھ جاؤ۔سوائے عیب گیری اور نقائص اور عیوب ظاہر کرنے کے اور کچھ نظر نہیں آتا۔گویا یہ نظر“ عدل وانصاف کی نظر نہیں جسے حسن و فتح سب کچھ نظر آنا چاہیئے بلکہ عداوت اور دشمنی کی نظر ہے جو سوائے عیب اور نقص کے اور کچھ نہیں دیکھ سکتی۔مکرم ڈاکٹر صاحب! کچھ وسعت حوصلہ پیدا کیجئے۔اور اپنے دل ودماغ کو اس بات کا عادی بنائیے کہ وہ اس شخص کے محاسن کا بھی اعتراف کر سکیں۔جسے آپ اپنا دشمن تصور فرماتے ہوں۔میں نے یہ الفاظ نیک نیتی سے عرض کئے ہیں اور خدا شاہد ہے کہ میں تو آپ کا دشمن بھی نہیں ہوں ورنہ آپ کے بعض معتقدات سے مجھے شدید اختلاف ہے۔اس کے بعد میں اصل مضمون کی طرف متوجہ ہوتا ہوں۔ڈاکٹر صاحب موصوف نے اپنے مضمون کے شروع میں چند اصولی باتیں لکھی ہیں جو ان کی اس رائے کا خلاصہ ہیں جو انہوں نے بحیثیت مجموعی سیرۃ المہدی حصہ اوّل کے متعلق قائم کی ہے۔سب سے پہلی بات جو ڈاکٹر صاحب نے بیان کی ہے وہ یہ ہے کہ کتاب کا نام سیرۃ المہدی رکھنا غلطی ہے کیونکہ وہ سیرت المہدی کہلانے کی حقدار ہی نہیں۔زیادہ تر یہ ایک مجموعہ روایات ہے جن میں افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ ایسی روایات کی بھی کمی نہیں جن کا سیرۃ سے کوئی تعلق نہیں۔اس اعتراض کے جواب میں مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے ایک تنقید کرنے والے کے فرض کو پورا نہیں کیا۔ناقد کا یہ فرض اولین ہے کہ وہ جس کتاب یا مضمون کے متعلق تنقید کرنے لگے پہلے اس کتاب یا مضمون کا کماحقہ مطالعہ کر لے تا کہ جو جرح وہ کرنا چاہتا ہے۔اگر اس کا جواب خود اسی کتاب یا مضمون کے کسی حصہ میں آگیا ہو تو پھر وہ اس بے فائدہ تنقید کی زحمت سے بچ جاوے اور پڑھنے والوں کا بھی وقت ضائع نہ ہومگر افسوس ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے تنقید کے شوق میں اپنے اس فرض کو بالکل نظر انداز کر دیا ہے۔اگر وہ ذرا تکلیف اٹھا کر اس ”عرض حال کو پڑھ لیتے جو سیرۃ المہدی کے شروع میں درج ہے تو ان کو معلوم ہو جا تا کہ ان کا اعتراض پہلے سے ہی میرے مدنظر ہے اور میں اصولی طور پر اس اعتراض کا جواب دے چکا ہوں۔چنانچہ سیرۃ المہدی کے عرض حال میں میرے یہ الفاظ درج ہیں۔۔مطبوعہ الفضل سے مئی ۱۹۲۶ء