مضامین بشیر (جلد 1) — Page 27
۲۷ دد بعض باتیں اس مجموعہ میں ایسی نظر آئیں گی جن کو بظاہر حضرت مسیح موعود کی سیرت یا سوانح سے کوئی تعلق نہیں لیکن جس وقت استنباط واستدلال کا وقت آئے گا (خواہ میرے لئے یا کسی اور کے لئے ) اس وقت غالباً وہ اپنی ضرورت خود منوالیں گی۔“ مضامین بشیر میرے ان الفاظ سے ظاہر ہے کہ میں نے خود اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ اس کتاب میں بعض ایسی روایتیں درج ہیں جن کا بادی النظر میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سیرت سے تعلق نہیں ہے لیکن استدلال و استنباط کے وقت ان کا تعلق ظاہر کیا جا سکتا ہے۔پس میری طرف سے اس خیال کے ظاہر ہو جانے کے باوجود ڈاکٹر صاحب کا اس اعتراض کو پیش کرنا ما سوائے اس کے اور کیا معنی رکھتا ہے کہ ڈاکٹر صاحب کو صرف بہت سے اعتراض جمع کر دینے کا شوق ہے۔میں جب خود مانتا ہوں کہ سیرۃ المہدی میں بعض بظاہر لاتعلق روایات درج ہیں اور اپنی طرف سے اس خیال کو ضبط تحریر میں بھی لے آیا ہوں تو پھر اس کو ایک نیا اعتراض بنا کر اپنی طرف سے پیش کرنا انصاف سے بعید ہے اور پھر زیادہ قابل افسوس بات یہ ہے کہ ڈاکٹر صاحب نے میرے ان الفاظ کا اپنے ریویو میں ذکر تک نہیں کیا۔ورنہ انصاف کا یہ تقاضا تھا کہ جب انہوں نے یہ اعتراض کیا تھا تو ساتھ ہی میرے وہ الفاظ بھی درج کر دیتے جن میں میں نے خود اس اعتراض کو پیدا کر کے اس کا اجمالی جواب دیا ہے اور پھر جو کچھ جی میں آتا فرماتے مگر ڈاکٹر صاحب نے میرے الفاظ کا ذکر تک نہیں کیا اور صرف اپنی طرف سے یہ اعتراض پیش کر دیا ہے تا کہ یہ ظاہر ہو کہ یہ تنقید صرف ان کی حدت نظر اور دماغ سوزی کا نتیجہ ہے۔اور اعتراضات کے نمبر کا اضافہ مزید براں رہے۔افسوس! اور پھر یہ شرافت سے بھی بعید ہے کہ جب میں نے یہ صاف لکھ دیا تھا کہ استدلال و استنباط کے وقت ان روایات کا تعلق ظاہر کیا جائے گا تو ایسی جلد بازی سے کام لے کر شور پیدا کر دیا جاوے۔اگر بہت ہی بے صبری تھی تو حق یہ تھا کہ پہلے مجھے تحریر فرماتے کہ تمہاری فلاں فلاں روایت سیرۃ سے بالکل بے تعلق ہے اور کسی طرح بھی اس سے حضرت مسیح موعود کی سیرت پر روشنی نہیں پڑتی اور پھر اگر میں کوئی تعلق ظاہر نہ کر سکتا تو بے شک میرے خلاف یہ فتویٰ شائع فرما دیتے کہ اس کی کتاب سیرۃ کہلانے کی حقدار نہیں کیونکہ اس میں ایسی روایات آگئی ہیں جن کا کسی صورت میں بھی سیرت کے ساتھ کوئی واسطہ نہیں ہے۔دوسرا جواب اس اعتراض کا میں یہ دینا چاہتا ہوں کہ اگر بالفرض سیرۃ المہدی میں بعض ایسی روایات آگئی ہیں جن کا واقعی سیرت کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے تو پھر بھی کتاب کا نام سیرۃ رکھنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ ڈاکٹر صاحب کم از کم اس بات کو ضرور تسلیم کریں گے کہ سیرۃ المہدی میں زیادہ تر