مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 25 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 25

۲۵ مضامین بشیر پہلو سے آگاہی حاصل کر سکیں۔یہ اصول دنیا بھر میں مسلم ہے اور اسلام نے تو خصوصیت کے ساتھ اس پر زور دیا ہے۔چنانچہ یہود و نصاری کے باہمی تنازع کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔وَقـــــالــــتِ الْيَهُودُ لَيْسَتِ النَّصَارَى عَلَى شَيْ ءٍ وَقَالَتِ النَّصَارَى لَيْسَتِ الْيَهُودُ عَلَىٰ شَيْ ءٍ وَهُمْ يَتْلُونَ الْكِتَابَ ل۔یعنی یہود و نصاری ایک دوسرے کے خلاف عداوت میں اس قدر ترقی کر گئے ہیں کہ ایک دوسرے کے محاسن اِن کو نظر ہی نہیں آتے اور یہود یہی کہتے چلے جاتے ہیں کہ نصاری میں کوئی خوبی نہیں ہے اور نصاریٰ یہ کہتے ہیں کہ یہود تمام خوبیوں سے مبرا ہیں حالانکہ دونوں کو کم از کم اتنا تو سوچنا چاہیئے کہ تو رات اور نبیوں پر ایمان لانے میں وہ دونوں ایک دوسرے کے شریک حال ہیں۔پھر فرماتا ہے۔لَا يَجُرِ مَنَّكُمْ شَنَانُ قَوْمٍ عَلَى أَلَّا تَعْدِلُوا اِعْدِلُواقف هُوَاَقْرَبُ لِلتَّقوای ۲۔یعنی کسی قوم کی عداوت کا یہ نتیجہ نہیں ہونا چاہیئے کہ انسان انصاف کو ہاتھ سے دیدے کیونکہ بے انصافی تقوی سے بعید ہے۔اور پھر عملاً بھی قرآن شریف نے اسی اصول کو اختیار کیا ہے۔چنانچہ شراب اور جوئے کے متعلق اجمالی ریویو کرتے ہوئے فرماتا ہے۔فِيهِمَا إِثْمٌ كَبِيرٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَإِثْمُهُمَا أَكْبَرُ مِنْ نَّفْعِهِمَا ہے۔یعنی شراب اور جوئے میں لوگوں کے لئے بہت ضر ر اور نقصان ہے مگر ان کے اندر بعض فوائد بھی ہیں لیکن ان کے نقصانات ان کے فوائد سے زیادہ ہیں۔کیسی منصفانہ تعلیم ہے جو اسلام ہمارے سامنے پیش کرتا ہے مگر افسوس ! کہ ڈاکٹر صاحب نے اس زریں اصول کو نظر انداز کر کے اپنا فرض محض یہی قرار دیا کہ صرف ان باتوں کو لوگوں کے سامنے لایا جائے جو ان کی نظر میں قابل اعتراض تھیں۔میں ڈاکٹر صاحب سے امانت و دیانت کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ کیا میری کتاب میں ان کو کوئی بھی ایسی خوبی نظر نہیں آئی جسے وہ اپنے اس طویل مضمون میں بیان کرنے کے قابل سمجھتے ؟ کیا میری تصنیف بلا استثناء محض فضول اور غلط اور قابل اعتراض باتوں کا مجموعہ ہے؟ کیا سیرۃ المہدی میں کوئی ایسے نئے اور مفید معلومات نہیں ہیں۔جنھیں اس پر تنقید کرتے ہوئے قابل ذکر سمجھا جاسکتا ہے؟ اگر ڈاکٹر صاحب کی دیانتداری کے ساتھ یہی رائے ہے کہ سیرۃ المہدی حصہ اوّل میں کوئی بھی ایسی خوبی نہیں جو بوقت ریویو قابل ذکر خیال کی جائے تو میں خاموش ہو جاؤں گا لیکن اگر ایسا نہیں ہے تو میں یہ کہنے کا حق رکھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کی تنقید انصاف اور دیانتداری پر مبنی نہیں ہے۔اسلام کے اشد ترین دشمن جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ( فداہ نفسی ) کی مخالفت میں عموماً کسی چیز کی بھی پرواہ نہیں کرتے۔آپ کی ذات والا صفات پر ریویو کرتے ہوئے اس بات کی احتیاط کر لیتے ہیں کہ کم از کم دکھاوے کے لئے ہی آپ کی بعض خوبیاں بھی ذکر کر دی جائیں۔تا کہ عامۃ الناس کو یہ خیال پیدا نہ ہو کہ یہ ریویو محض عداوت پر مبنی ہے اور لوگ ان کی تنقید کو ایک