مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 309 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 309

۳۰۹ مضامین بشیر اپنے بچوں کو تخت گاہِ رسول کی برکات سے محروم نہ کریں مرکزی مدارس میں بچوں کو داخل کرنے کی اپیل احباب نے ”الفضل“ میں مدرسہ احمدیہ اور تعلیم الاسلام ہائی سکوئی قادیان کے نتائج دیکھ لئے ا ہوں گے جیسا کہ ان ہر دو مدارس کے ہیڈ ماسٹر صاحبان نے اعلان کیا ہے۔نیا تعلیمی سال چند دن میں شروع ہونے والا ہے اور میں اس مختصر نوٹ کے ذریعہ احباب کو توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ وہ اپنے بچوں کو مرکزی درس گاہوں میں داخل کرا کے دنیوی فوائد کے ساتھ ساتھ دینی فوائد بھی حاصل کریں۔ہمارے یہ ہر دو مدرسے نہایت اہم قومی درس گاہیں ہیں جن میں سے ایک تو خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنے ہاتھ سے احمدی بچوں کو بیرونی مقامات کے زہریلے اثرات سے بچانے کے لئے قائم فرمائی اور دوسری کی تجویز بھی خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں دینی علماء پیدا کرنے کی غرض سے ہوئی۔اور اس کی باقاعدہ داغ بیل آپ کی وفات کے جلد بعد رکھی گئی۔اگر غور کیا جائے تو ہماری یہ دو درس گاہیں علوم کی دوز بر دست نہریں ہیں جن میں سے ایک میں تو خالص جنتی آبشار رواں ہے اور دوسری حسنات دارین کا مخلوط نقشہ پیش کرتی ہے۔پس میں امید کرتا ہوں کہ ہمارے دوست اس موقع پر جبکہ نیا تعلیمی سال شروع ہونے والا ہے، اپنے فرائض کو پہچانتے ہوئے اپنے بچوں کو قادیان بھجوانے کی پوری پوری کوشش کریں گے یعنی جن دوستوں کے بچے پہلے سے قادیان میں تعلیم پاتے ہیں وہ اس سلسلہ کو بدستور جاری رکھیں گے اور جن دوستوں نے ابھی تک اپنے بچے قادیان کی درسگاہوں میں داخل نہیں کرائے وہ اب اس اہم قومی اور دینی فریضہ کی طرف توجہ دے کر عنداللہ ماجور ہوں گے۔بعض لوگ یہ عذر کیا کرتے ہیں کہ بچوں کو گھر سے باہر بھیجنے سے خرچ کا بوجھ زیادہ ہو جاتا ہے یا یہ کہ بورڈنگوں میں رہنے سے بچے اس جذباتی پرورش سے محروم ہو جاتے ہیں جو انہیں اپنے والدین کے زیر سایہ اپنے گھروں میں میسر ہوتی ہے۔میں ان ہر دو باتوں کو تسلیم کرتا ہوں لیکن ہمارے دوستوں کو یہ کبھی نہیں بھولنا چاہیئے کہ کسی بات کے متعلق فیصلہ کرتے ہوئے صرف ایک پہلو کود یکھنا کا فی نہیں ہوتا بلکہ سارے پہلوؤں پر یکجائی نظر ڈال کر اور ہر تجویز کے حُسن و قبح کو زیر غور لا کر پھر فیصلہ کرنا