مضامین بشیر (جلد 1) — Page 301
مضامین بشیر وہ بھی خدا تعالیٰ کی رحمت کے وارث بن جائیں لَعَلَّ اللَّهَ يُحَدِثُ بَعْدَ ذَالِكَ أَمُواً - اس خاندان کے جن افراد کو اس وقت تک پیشگوئی کے بعد سلسلہ احمدیہ میں داخل ہونے کی توفیق مل چکی ہے ان کے اسماء یہ ہیں : - (۱) ہماری پھوپھی عمر بی بی صاحبہ والدہ محمدی بیگم صاحبہ (۲) ہماری تائی حرمت بی بی صاحبہ خالہ محمدی بیگم صاحبہ (۳) محمودہ بیگم صاحبہ مرحومہ ہمشیرہ محمدی بیگم صاحبہ ( ۴ ) عنایت بیگم صاحبہ ہمشیرہ محمدی بیگم صاحبه ( ۵ ) مرزا گل محمد صاحب ماموں زاد برادر محمدی بیگم صاحبہ (۶) خورشید بیگم صاحبہ ماموں زاد ہمشیرہ محمدی بیگم صاحبہ (۷) مرزا ارشد بیگ صاحب مرحوم بہنوئی محمدی بیگم صاحبہ (۸) مرز اسحاق بیگ صاحب فرزند محمدی بیگم صاحبه (۹) حفیظ بیگم دختر محمدی بیگم صاحبه (۱۰) مرزا عبدالسلام بیگ صاحب دختر زاده محمدی بیگم صاحبہ (۱۱) مرزا محمود بیگ صاحب برادر زاده محمدی بیگم صاحبہ (۱۲) مرزا اجمل بیگ صاحب ہمشیرہ زادہ محمدی بیگم صاحبه (۱۳) مرزا امجد بیگ صاحب ہمشیرہ زادہ محمدی بیگم صاحبہ (۱۴) مرزا احسن بیگ صاحب خالہ زاده محمدی بیگم صاحبه (۱۵) مرزا ضیاء اللہ بیگ صاحب داما دمحمدی بیگم صاحبہ۔یہ پندرہ نام میں نے صرف ان اشخاص کے لکھے ہیں جو محمدی بیگم صاحبہ کے قریب ترین رشتہ داروں میں سے ہیں۔اگر ان کے علاوہ دوسرے عزیز بھی جو اس خاندان سے دور نز دیک کا تعلق رکھتے ہیں شامل کر لئے جائیں تو پھر تعداد بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔اور نابالغ بچے اور لواحقین ان کے علاوہ ہیں۔اب کیا ہمارے مخالفین کے لئے یہ سب لوگ اور ان کے مقابل پر غضب کے پہلو سے حصہ پانے والے لوگ اس بات کی زندہ شہادت نہیں ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو خدا تعالیٰ نے اس میدان میں حقیقی فتح عطا فرمائی ہے اور پیشگوئی کی غرض رحمت و غضب ہر دو پہلوؤں میں پوری ہو گئی ہے۔باقی رہا محمدی بیگم صاحبہ کی شادی کا سوال۔سو ہم کہتے ہیں کہ اول تو وہ خود بالذات مقصود نہیں تھی بلکہ محض ایک ظاہری اور وقتی علامت کے طور پر تھی اور اگر وہ مقصود تھی بھی تو قرآنی اصول : - مَا نَفُسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْنُنُسِهَا ۲۸ کے ماتحت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے خود اپنی زندگی میں یہ فرما دیا تھا کہ وہ منسوخ ہو گئی ہے ۲۹۔اور اسی حوالہ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے یہ بھی اشارہ فرما دیا تھا کہ شاید یہ الہام کسی دوسرے وقت میں کسی دوسری صورت میں پورا ہو اور میں اپنے ذوق کے لحاظ سے سمجھتا ہوں کہ کیا تعجب ہے کہ خدا تعالیٰ کبھی خود محمدی بیگم صاحبہ کو بھی حق کے قبول کرنے کی توفیق عطا