مضامین بشیر (جلد 1) — Page 300
مضامین بشیر ۳۰۰ اگر ہمارے مخالفین انصاف کی نظر سے دیکھیں تو پھوپھی صاحبہ کا احمدی ہونا بھی پیشگوئی کی صداقت کی ایک دلیل ہے۔در حقیقت اگر غور سے دیکھا جائے اور اس تعلق میں جملہ الہامات اور دوسرے الہامات کو بنظر غور مطالعہ کیا جائے تو یہ بات صاف طور پر ثابت ہوتی ہے کہ اس پیشگوئی کا مرکزی نقطه محمدی بیگم صاحبہ کی شادی نہیں تھی بلکہ خاندان کے بے دین اعزہ کو ایک رحمت یا غضب کا نشان دکھانا اصل مقصد تھا۔یعنی ان کے سامنے خدا تعالیٰ نے یہ بات پیش کی تھی کہ اگر بے دینی کو ترک کر کے میرے بھیجے ہوئے مسیح کے ساتھ حقیقی تعلق جوڑو گے تو خدا تعالیٰ تمہیں بھی علی قدر مرا تب ان رحمتوں میں سے حصہ دے گا جو اس نے اپنے مسیح کی آل و اولا د اور متعلقین کے لئے مقدر کر رکھی ہیں۔لیکن اگر تم بدستور بے دینی پر قائم رہے اور خدا کے مامور ومرسل کے ساتھ حقیقی رشتہ نہ جوڑا تو پھر تم بالآخر خدا کے غضب کا نشانہ بنو گے۔محمدی بیگم صاحبہ کی شادی اس وقت کے حالات کے ماتحت اس تعلق کی صرف ایک ظاہری نشانی تھی۔جس طرح کہ حضرت صالح علیہ السلام کے زمانہ میں خدا تعالیٰ نے ایک طرف اپنے فضل و رحمت اور دوسری طرف اپنے غضب ولعنت کے دوہرے نشان کے لئے حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو ایک ظاہری نشان قرار دے دیا تھا۔مگر نادان لوگ ظاہری بات کو لے کر جو محض ایک وقتی رنگ رکھتی ہے۔اپنی ضد پر اڑ جاتے ہیں اور بات کی تہہ تک پہنچنے کی کوشش نہیں کرتے۔بہر حال جہاں تک میں نے اس پیشگوئی کے متعلق غور کیا ہے ، میں اسی نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ اس پیشگوئی میں محمدی بیگم صاحبہ کی شادی اصل مقصود نہیں تھی۔بلکہ پیشگوئی کی حقیقی غرض و غایت یہ تھی کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے رشتہ داروں کو ایک ایسا نشان دکھایا جائے جو اپنے اندر دو پہلو رکھتا ہو۔ایک پہلو رحمت کا جو آپ کو ماننے والوں اور آپ کے ساتھ تعلق جوڑنے والوں کے لئے خاص ہوا اور دوسرا غضب کا ، جو انکار کرنے والوں اور الگ رہنے والوں کے لیئے مخصوص ہو۔سو خدا تعالیٰ نے اپنا یہ دودھاری نشان دکھا دیا اور دکھا رہا ہے اور اس وقت تک دکھاتا جائے گا جب تک کہ یہ میدان اپنے اور غیروں کے درمیان امتیاز پیدا کر دینے کے رنگ میں صاف نہ ہو جائے۔چنانچہ اس وقت تک اس خاندان میں سے ایک بہت بڑی تعداد خدا تعالیٰ کی مخفی تاروں کے ذریعہ کھینچی جا کر خدا تعالیٰ کی رحمت سے علی قدر مراتب حصہ پاچکی ہے اور کچھ لوگ جو انکار پر فوت ہوئے ہیں وہ پیشگوئی کے دوسرے پہلو کے مظہر ہیں اور ان کے انجام کی تلخی دنیا کے سامنے ہے۔جس پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں۔باقی ایک تیسر ا گر وہ ہے جو ابھی تک ہم سے جدا ہے لیکن چونکہ یہ لوگ ہنوز بقید حیات ہیں اس لئے ہم ان کے متعلق حسن ظن رکھتے ہیں اور ہماری خواہش ہے اور ہم اسی کوشش میں ہیں کہ