مضامین بشیر (جلد 1)

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 292 of 694

مضامین بشیر (جلد 1) — Page 292

مضامین بشیر ۲۹۲ (۹) فرمایا ”انسان عادت کو چھوڑ سکتا ہے بشرطیکہ اس میں ایمان ہو اور بہت سے ایسے آدمی دنیا میں موجود ہیں جو اپنی پرانی عادات کو چھوڑ بیٹھے ہیں۔دیکھا گیا ہے کہ بعض لوگ جو ہمیشہ سے شراب پیتے چلے آئے ہیں بڑھاپے میں آ کر جبکہ عادت کا چھوڑ نا خود بیمار پڑنا ہوتا ہے بلا کسی خیال کے چھوڑ بیٹھتے ہیں اور تھوڑی سی بیماری کے بعد اچھے بھی ہو جاتے ہیں۔میں حقہ کو منع کہتا اور نہ جائز قرار دیتا ہوں مگران صورتوں میں کہ انسان کو کوئی مجبوری ہو۔یہ ایک لغو چیز ہے اور اس سے انسان کو ز پر ہیز کرنا چاہیئے۔‘۱۳ ارشاد حضرت خلیفہ اسیح اول رضی اللہ عنہ (۱۰) '' تمبا کو پینا فضول خرچی میں داخل ہے۔کم از کم آٹھ آنے ماہوار کا تمبا کو جو شخص پیئے۔سال میں چھ روپے اور سولہ سترہ سال میں ایک صد رو پے ضائع کرتا ہے۔ابتداء تمباکو نوشی کی عمو مابری مجلس سے ہوتی ہے۔‘۱۴ ارشادات حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ (۱) بد بودار چیزیں مثلاً پیاز وغیرہ کھانا یا کھانا کھانے کے بعد مونہہ صاف نہ کرنا اور کھانے کے ریزوں کا مونہہ میں سڑ جانا اس قسم کی غلاظتوں میں ملوث ہونے والوں کے ساتھ بھی فرشتے تعلق نہیں رکھتے۔اس ذیل میں حقہ پینے والے بھی آگئے۔حقہ پینے والے کو بھی صحیح الہام ہونا ناممکن ہے۔۱۵ (۱۲) ایک شخص نے دریافت کیا کہ اگر کسی کے لئے طبیب حقہ بطور دوا تجویز کرے تو کیا کیا جائے۔حضور نے جواب دیا کہ اگر ایک دو دفعہ پینے کے لئے کہے تو کوئی حرج نہیں اور اگر وہ مستقل طور پر بتلاتا ہے تو یہ کوئی علاج نہیں۔جو طبیب خود حقہ پیتے ہیں وہی اس قسم کا علاج دوسروں کو بتلایا کرتے ہیں۔کوئی ایسی بات جس کی انسان کو عادت پڑ جائے وہ میرے نزدیک بہت مضر اور بعض دفعہ تقوی اور دین کو نقصان دیتی ہے۔(۱۳) اس کے بعد میں ایک اور نصیحت کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ حقہ بہت بری چیز ہے۔ہماری جماعت کے لوگوں کو یہ چھوڑ دینا چاہیئے۔کا (۱۴) ہر قسم کا نشہ بھی بدی ہے۔اس میں شراب ، افیون ، بھنگ ،نسوار چائے حقہ سب چیزیں