مضامین بشیر (جلد 1) — Page 291
۲۹۱ تا وہ ان باتوں کو سن کر اس مضر چیز کے نقصانات سے بچیں۔فرمایا اصل میں تمبا کو ایک دھوآں ہوتا ہے جو اندرونی اعضاء کے واسطے مضر ہے۔اسلام لغو کا موں سے منع کرتا ہے اور اس میں نقصان ہی ہوتا ہے۔لہذا اس سے پر ہیز ہی اچھا ہے۔‘ کے ر تمباکو کو ہم مسکرات میں داخل کرتے ہیں لیکن یہ ایک لغو فعل ہے اور مومن کی شان ہے وَالَّذِينَ هُمْ عَنِ اللَّغْوِ مُعْرِضُونَ اگر کسی کو کوئی طبیب بطور علاج بتائے تو ہم منع نہیں کرتے ورنہ یہ لغو اور اسراف کا فعل ہے۔اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ہوتا تو آپ صحابہ کے لئے بھی پسند نہ فرماتے۔تمباکو کی نسبت فرمایا کہ : - مضامین بشیر یہ شراب کی طرح تو نہیں ہے کہ اس سے انسان کو فسق و فجور کی طرف رغبت ہو مگر تا ہم تقویٰ یہی ہے کہ اس سے نفرت اور پر ہیز کرے۔مونہہ میں اس سے بد بو آتی ہے اور یہ منحوس صورت ہے کہ انسان دھوآں اندر داخل کرے اور پھر باہر نکالے۔اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت یہ ہوتا تو آپ اجازت نہ دیتے کہ اسے استعمال کیا جاوئے۔ایک لغو اور بے ہودہ حرکت ہے۔ہاں مسکرات میں اسے شامل نہیں کر سکتے اگر علاج کے طور پر ضرورت ہو تو منع نہیں ہے ورنہ یونہی مال کو بے جا صرف کرنا ہے عمدہ تندرست وہ آدمی ہے جو کسی شے کے سہارے زندگی بسر نہیں کرتا ۱۰ (۷) ایک شخص نے سوال کیا کہ سنا گیا ہے کہ آپ نے حقہ نوشی کو حرام فرمایا ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام نے فرمایا ہم نے کوئی ایسا حکم نہیں دیا کہ تمبا کو پینا مانند سو راور شراب کے حرام ہے۔ہاں ایک لغوا مر ہے۔اس سے مومن کو پر ہیز چاہیئے۔البتہ جو لوگ کسی بیماری کے سبب مجبور ہیں وہ بطور دوا و علاج کے استعمال کریں تو کوئی حرج نہیں۔اے (۸) آپ نے فرمایا : - تمباکو کے بارہ میں اگر چہ شریعت نے (صراحنا) کچھ نہیں بتلا یا لیکن ہم اسے اس لئے مکر وہ خیال کرتے ہیں کہ اگر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں ہوتا تو آپ اس کے استعمال کو منع فرماتے۔‘۱۲