مضامین بشیر (جلد 1) — Page 290
مضامین بشیر ۲۹۰ ارشادات حضرت مسیح موعود علیہ السلام (۱) مورخه ۲۹ مئی ۱۸۹۸ء کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے ایک اشتہار شائع کیا جس کا ملخص یہ ہے کہ : - د میں نے چند ایسے آدمیوں کی شکایت سنی تھی کہ وہ پنجوقت نماز میں حاضر نہیں ہوتے تھے اور بعض ایسے تھے کہ ان کی مجلسوں میں ٹھٹھے اور ہنسی اور حقہ نوشی وہ اور فضول گوئی کا شغل رہتا تھا اور بعض کی نسبت شک کیا گیا تھا کہ پر ہیز گاری کے پاک اصول پر قائم نہیں ہیں۔اس لئے میں نے بلا تو قف ان سب کو یہاں سے نکال دیا ہے کہ تا دوسروں کے لئے ٹھو کر کھانے کا موجب نہ ہوں۔حقہ کا ترک اچھا ہے مونہہ سے بو آتی ہے ہمارے والد صاحب مرحوم اس کے متعلق ایک بنایا ہوا شعر پڑھا کرتے تھے جس سے اس کی بُرائی ظاہر۔ہوتی ہے۔(۲) حقہ نوشی کے متعلق ذکر تھا فر مایا : - اس کا ترک اچھا ہے یہ ایک بدعت ہے اس کے پینے سے مونہہ سے بو آتی ہے ہے (۳) حدیث میں آیا ہے کہ وہ مِنْ حُسْنِ اِسْلَامِ الْمَرْءِ تَرْكَهُ مَا لَا يَعْنِيهِ یعنی اسلام کا حسن یہ بھی ہے کہ جو چیز ضروری نہ ہو وہ چھوڑ دی جائے اس طرح پر یہ پان حقہ زردہ تمبا کو، افیون وغیرہ ایسی ہی چیزیں۔بڑی سادگی یہ ہے کہ انسان ان چیزوں سے پر ہیز کرے کیونکہ اگر کوئی اور بھی نقصان ان کا بفرض محال نہ ہو تو بھی اس سے ابتلا آ جاتے ہیں اور انسان مشکلات میں پھنس جاتا ہے مثلا قید ہو جائے تو روٹی تو ملے گی لیکن بھنگ چرس یا اور منشی اشیاء نہیں دی جائیں گی۔یا اگر قید نہ ہو مگر کسی ایسی جگہ میں ہو جو قید کے قائمقام ہو تو پھر بھی مشکلات پیدا ہو جاتے ہیں عمدہ صحت کو کسی بیہودہ سہارے سے کبھی ضائع کرنا نہیں چاہیئے۔شریعت نے خوب فیصلہ کیا ہے کہ ان مضر صحت چیزوں کو مفسد ایمان قرار دیا ہے اور ان سب کی سردار شراب ہے۔یہ سچی بات ہے کہ نشوں اور تقوی میں عداوت ہے۔ایک شخص نے امریکہ سے تمباکو نوشی کے متعلق اس کے بہت سے مجرب نقصان ظاہر کرتے ہوئے اشتہار دیا اس کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے سنا اور فرمایا اصل میں ہم اس لئے اسے سنتے ہیں کہ اکثر نو عمر لڑکے اور نوجوان تعلیم یافتہ بطور فیشن ہی کے اس بلا میں گرفتار یا مبتلا ہو جاتے ہیں۔