مضامین بشیر (جلد 1) — Page 269
۲۶۹ مضامین بشیر متعلق ایک ایسا لفظ لکھا جو مجھے گراں گزرا مگر معلوم ہوتا ہے کہ اس خط کے بھجوانے کے معا بعد عزیز مرحوم کو اپنی غلطی محسوس ہوئی۔چنانچہ جب میں نے جواب میں نصیحتاً اسے اس کی غلطی کی طرف توجہ دلائی تو اس کا فوراً جواب آیا کہ میں نے اپنی غلطی محسوس کرلی ہے اور میں بلا تامل معافی مانگتا ہوں۔اور ساتھ ہی وجہ بھی لکھی کہ اس اس وجہ سے میری طبیعت اپنے رستہ سے کسی قدرا کھڑ گئی تھی مگر انشاء اللہ آئندہ ایسا نہیں ہوگا۔جو وجہ عزیز نے لکھی تھی وہ واقعی ایک حد تک اُسے معذور ثابت کرتی تھی۔پھر جب عزیز سعید احمد آئی ہی۔ایس میں پاس تو ہو گیا مگر مقابلہ میں نہ آسکا اور عزیز مظفر احمد مقابلہ میں آگیا تو عزیز سعید احمد نے مجھے مظفر احمد کی کامیابی پر مبارکبا د لکھی مگر ساتھ ہی لکھا کہ میں مبارک باد اس لئے دے رہا ہوں کہ مظفر کو اور آپ کو کامیابی کی خوشی ہو گی۔ورنہ ویسے تو میں مظفر کے متعلق سمجھتا ہوں کہ وہ چونکہ قابل اور ہونہار ہے اگر وہ آزاد رہ کر خدمت کرتا تو بہتر تھا اور لکھا کہ میں تو صرف والد صاحب کے زور دینے سے آئی سی۔ایس کا امتحان دیتا رہا ہوں ورنہ مجھے ملا زمت ہرگز پسند نہیں اور گو مجھے والد صاحب کی وجہ سے اپنی ناکامی کا افسوس ہے مگر اپنے خیال کے لحاظ سے میں خوش ہوں کہ اچھا ہوا۔میں نے عزیز سعید احمد کی مبارکباد کا شکریہ ادا کیا مگر ساتھ ہی لکھا کہ عزیز مظفر احمد کا آئی سی۔ایس میں جانا اس کی اپنی یا میری خواہش کے نتیجہ میں نہیں ہے بلکہ مشورہ کے ماتحت وسیع ترقومی مفاد کے خیال سے یہ رستہ اختیار کیا گیا ہے اور گو آزاد پیشہ عام طور پر اچھا ہوتا ہے مگر اچھی نیت کے ماتحت بعض اوقات ملازمت بھی آزاد پیشہ کی طرح اعلیٰ خدمت کا رنگ رکھتی ہے جس سے عزیز سعید احمد نے اتفاق کیا۔سوشلزم کا مطالعہ چونکہ مرحوم میں غرباء کی ہمدردی کا مادہ بہت تھا اس لئے چند ماہ سے عزیز سعید احمد نے سوشلزم کا بھی مطالعہ شروع کر رکھا تھا تا کہ معلوم ہو سکے کہ سوشلزم غرباء کے لئے کس کس رنگ میں امداد اور فائدہ کا دروازہ کھولتی ہے۔اس پر میں نے مرحوم کو لکھا تھا کہ اس مطالعہ کے ساتھ ساتھ اسلامی تعلیم کا بھی مطالعہ رکھو تا کہ صحیح موازنہ کرنے میں مدد ملے۔چنانچہ میں نے عزیز مرحوم کو اسلامی مسائل زکوۃ اور تقسیم ورثہ اور سود کے متعلق کچھ نوٹ بھی لکھ کر بھیجے تھے اور بتایا تھا کہ غرباء کی امداد اور دولت کی مناسب اور واجبی تقسیم کے متعلق جو اصول اسلام نے پیش کر دیئے ہیں اس پر سوشلزم قطعاً کوئی اضافہ نہیں کر سکتی بلکہ اکثر جگہ سوشلزم نے ٹھو کر کھائی ہے۔عزیز اس قسم کی علمی خط و کتابت سے بہت خوش