مضامین بشیر (جلد 1) — Page 268
مضامین بشیر ۲۶۸ (ابھی عزیز اپنی عمر کے پچیس سال بھی پورے نہیں کر سکا تھا ) سعیدالفطرت ،شریف مزاج ، صابر شاکر، بڑوں کا حد درجہ مؤدب ، چھوٹوں کے لئے نہائت شفیق، رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ بہت محبت کرنے والا اور تعلقات کے نبھانے میں کسی قربانی سے دریغ نہ کرنے والا ، پھر نہائت قابل اور نہائت ہونہار، ملک وقوم کی خدمت کا خاص جذبہ رکھنے والا ، غربا اور مساکین کا دلی ہمدرد۔یہ وہ صفات تھیں جو مرحوم میں نمایاں طور پر پائی جاتی تھیں۔اگر ان صفات کا مالک نوجوان عین اٹھتی جوانی کے عالم میں جب کہ وہ زندگی کی کش مکش میں داخل ہونے کے لئے اپنے آپ کو تیار کر رہا تھا اور حصول تعلیم کی آخری کڑیوں پر پہونچ چکا تھا اور اس کے اوصاف حسنہ کی وجہ سے اس کے ساتھ بہت سی امیدیں وابستہ تھیں۔اچانک فوت ہو جائے اور فوت بھی ایسی حالت میں ہو کہ وہ وطن سے چھ ہزار میل پر اپنے عزیزوں سے دور ہسپتال کے ایک علیحدہ کمرہ میں تنہائی میں پڑا ہوا ہو تو انسانی فطرت جس کے اندر خالق فطرت نے خود اپنے ہاتھ سے جذبات کا خمیر دیا ہے انتہائی صدمہ محسوس کئے بغیر نہیں رہ سکتی اور ہم اس صدمہ سے بالا نہیں بلکہ شاید جذبات کی دنیا میں دوسروں سے کچھ آگے ہی ہوں مگر ہمارا مقدم فرض وہ ہے جو ہمیں اپنے خدا سے جوڑتا ہے اور ہم دل سے یقین رکھتے ہیں کہ ہمارے خدا کا ہر فعل خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی تلخ اثر رکھتا ہو اپنے اندر نہ صرف انتہائی حکمت رکھتا ہے بلکہ اس کی گہرائیوں میں سراسر رحمت ہی رحمت مخفی ہوتی ہے۔پس ہم خدا کی دی ہوئی امانت کو صبر اور رضا کے ہاتھوں سے خدا کے سپرد کرتے ہیں اور اس کے اس امتحان کو جو خواہ بظاہر کس قدر ہی بھاری ہے مگر بہر حال وہ ہماری بہتری کے لئے ہے، دلی انشراح کے ساتھ قبول کرتے ہیں۔اللهم تقبل منا انك انت السميع الدعا مرحوم کی قابل ستائش عادات مرحوم یوں تو اپنا عزیز ہی تھا مگر گزشتہ تین سال سے جبکہ وہ ولائت میں تھا۔وہ گویا ایک طرح سے میری ولائت میں بھی تھا یعنی اس کی تعلیمی نگرانی اور اسے اخراجات وغیرہ بھجوانے کا انتظام میرے سپر د تھا اور اس تین سال کے لمبے عرصہ میں تقریباً ہر ہفتہ میں میرے پاس اس کا خط آیا اور میں نے ہر ہفتہ اسے خط لکھا۔مجھے اس نے اس عرصہ میں اپنے کسی لفظ کسی تحریر کسی انداز سے شکایت کا موقع نہیں دیا۔بعض اوقات اگر زائد خرچ کا مطالبہ کا سوال آیا تو مرحوم نے ایسے انداز میں مطالبہ کیا کہ نہ صرف میں نے اسے کبھی بر انہیں مانا بلکہ اکثر اوقات اس کے زائد مطالبات کو پورا کرنے میں خوشی محسوس کی۔اس سارے عرصہ میں صرف ایک دفعہ ایسا موقع آیا کہ مرحوم نے اپنے خط میں ایک تیسرے شخص کے