مضامین بشیر (جلد 1) — Page 270
مضامین بشیر ۲۷۰ ہوتا تھا اور اس سے فائدہ اٹھاتا تھا۔جذبہ قربانی و انکسار مرحوم جب اس آخری بیماری میں مبتلا ہوا تو شروع میں اس طرف توجہ نہیں ہوئی کہ یہ مرض سل ہے لیکن چونکہ عزیز سعید احمد کے جسم کی کمزوری کی وجہ سے شبہ ہوتا تھا۔اس لئے احتیاطاً تا کیدی خط لکھا گیا کہ کسی ماہر امراض سینہ کو دکھا لیا جائے لیکن مرحوم نے محض اس خیال سے کہ میری وجہ سے اتنی تکلیف کیوں اٹھائی جائے اور اس قدرا ہتمام کیوں کیا جائے اور یہ سمجھتے ہوئے کہ یہ یونہی ایک قسم کی عام بیماری ہے سینہ کے امتحان کو ملتوی رکھا حتی کہ اندر ہی اندر بیماری ترقی کرگئی اور سینہ امتحان کے وقت تک خطر ناک صورت اختیار کر گئی۔یقیناً مرحوم کی یہ ایک غلطی تھی مگر اس غلطی کی تہہ میں بھی وہی جذ بہ انکسار و قربانی کام کر رہا تھا جو مرحوم کا خاصہ تھا۔بیماری کے آخری ایام میں جبکہ بیماری کے خطر ناک ہونے کا اسے علم ہو گیا تھا۔سعید کے دل میں یہ خواہش موجزن تھی کہ وہ اپنے ابا جان سے مل لے مگر اسی جذبہ نے جس پر وہ اب اپنے آپ کو سرعت کے ساتھ قربان کرتا جاتا تھا، اسے اس خواہش کا اظہار نہیں کرنے دیا اور جب بھی اس کے سامنے ذکر آیا اس نے یہی کہا کہ میری خاطر ابا جان تکلیف نہ کریں لیکن جب ہم نے بالآخر اسے اپنے فیصلہ کی اطلاع دی کہ تمہارے ابا جان وہاں آرہے ہیں تو اس کے دبے ہوئے جذبات باہر آگئے اور اس نے اس خبر پر بہت خوشی کا اظہار کیا۔ولایت کے قیام کے متعلق مرحوم کا کام اس تعلق میں بھی یادگار رہے گا کہ جو ایک انگریزی تبلیغی رسالہ ہمارے بچوں نے مل کر لنڈن سے نکالا تھا جس کا نام الاسلام تھا اس کا مینیجر بھی مرحوم تھا۔الغرض عزیز سعید احمد ایک بہت ہی اچھی صفات کا بچہ تھا اور بہت قابل اور ہونہار تھا۔اللہ تعالیٰ اسے غریق رحمت فرمائے اور جنت میں اپنے فضل خاص کا وارث کرے۔آمین ولایت میں عزیز کی تیمارداری کرنے والے احباب کا شکر اس موقع پر ان احباب کا شکریہ ادا کرنا بھی ضروری ہے۔جنہوں نے ولایت میں عزیز کی تیمار داری اور ہمدردی میں حصہ لیا۔ان میں نمایاں حیثیت مکر می مولوی عبد الرحیم صاحب در دکو حاصل ہے۔جو گویا اس بیماری میں حقیقی معنوں میں مرحوم کے ولی اور گارڈین رہے اور اپنے آپ کو ہر رنگ میں تکلیف میں ڈال کر مرحوم کے لئے جملہ ضروری قسم کے انتظامات فرماتے رہے اور ہمیں بھی تاروں وغیرہ کے ذریعہ سے باخبر رکھا اور پھر مرحوم کی وفات کے بعد بھی نعش کو ہندوستان بھجوانے وغیرہ کے۔