مضامین بشیر (جلد 1) — Page 238
مضامین بشیر ۲۳۸ زنگ کی وجہ سے جو ان کے دل پر لگ چکا تھا اور کچھ بعض غلط مشورہ دینے والوں کے پیچھے لگ کر انہوں نے خدا کی آواز کو نہ سنا اور مخالفت میں بڑھتے گئے اور بالآخر حضرت خلیفہ اسیح الثانی ایده اللہ تعالیٰ کی ذات اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خاندان کے متعلق ایک نہائت گندہ اشتہار نکالا اور مومنوں کی جماعت کی سخت دل آزاری کی۔جس پر سلسلہ کی تعلیم کے خلاف ایک نوجوان نے اشتعال میں آکر اور اپنے آپ کو قابو میں نہ رکھتے ہوئے ان پر حملہ کر دیا اور وہ چھ دن بعد ہسپتال میں انتقال کر گئے۔مرنا تو سبھی نے ہے مگر جو انجام میاں فخر الدین کا ہوا ہے وہ بہت دردناک ہے اور ہر مومن اور متقی کے لئے یہ ایک خوف کا مقام ہے۔اور یہی وہ احساس ہے جس کی وجہ سے میاں فخر الدین کی وفات کا سن کر میری طبیعت کو ایک سخت دھکا لگا۔کیونکہ ان کی موت کا سنتے ہی میری آنکھوں کے سامنے وہ زمانہ آ گیا جب وہ آج سے اکتیس سال قبل اخلاص اور محبت کے ساتھ قادیان آئے تھے۔اور اس کے بعد میری آنکھوں کے سامنے ان کی موت کا زمانہ آیا۔جب وہ جماعت سے کٹ کر الگ ہو چکے تھے بلکہ جماعت کی تخریب کے در پے تھے اور میں نے یوں محسوس کیا کہ ایک شخص نے اکتیس سال کے لمبے زمانہ میں دن رات لگ کر ایک عمارت تیار کی اور اپنی سمجھ اور طاقت کے مطابق اسے سجایا اور آراستہ کیا مگر پھر نہ معلوم دل میں کیا آیا کہ ایک آن کی آن میں اس عمارت کو گرا کر خاک میں ملا دیا۔اس خیال کے ساتھ ہی میرے سامنے سرور کونین صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ حدیث آگئی کہ ایک شخص نیک عمل کرتا ہے۔اور نیک عمل کرتے کرتے گویا جنت کے دروازہ پر پہونچ جاتا ہے۔مگر پھر اس کی کوئی مخفی بدی اس کے رستہ میں حائل ہو کر اسے جنت کے رستہ سے ہٹا کر دوسرے راستہ پر ڈال دیتی ہے۔اور اس حدیث کے ساتھ ہی میری توجہ اس قرآنی آیت کی طرف بھی پھر گئی کہ "وَلَا تَكُونُوا كَالَّتِي نَقَضَتْ غَزْلَهَا مِنْ بَعْدِ قُوَّةٍ اَنْكَاثًاث یعنی اے مومنو! تم اس عورت کی طرح مت بنو جس نے بڑی محنت کے ساتھ سوت کا تا لیکن جب وہ سوت مکمل ہونے کو آیا تو پھر اس نے کسی وجہ سے اپنے کاتے ہوئے مضبوط سوت کو کاٹ کر ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔“ ان خیالات نے مجھے سخت محزون کر دیا۔اور میں نے خیال کیا کہ کاش فخر الدین اس گروہ میں نہ ہوتا جنہوں نے اس خیال سے ایک ایمان اور تقویٰ کی عمارت کھڑی کی کہ ہم مرنے کے بعد اُس میں بسیرا کریں گے مگر جب وہ عمارت تکمیل کو پہونچنے لگی اور ان کے مرنے کا وقت آیا تو انہوں نے خود اپنے ہاتھ سے اس عمارت کو گرا کر اُ سے پاش پاش کر دیا۔