مضامین بشیر (جلد 1) — Page 239
۲۳۹ مضامین بشیر فخر الدین کے ساتھیوں کا خیال پھر مجھے فخر الدین کے ساتھیوں کا خیال آیا اور میں نے کہا خدا یا ان میں بھی بعض پرانے ہیں۔ان کی آنکھیں کھول اور انہیں تو بہ کی توفیق دے اور انہیں خراب انجام سے بچالے اور ان کے دلوں کو حق وصداقت کی طرف پھیر دے اور اس عارضی لغزش کو دور کر کے انہیں پھر سید ھے راستہ کی طرف لے آ اور انہیں اس نور سے محروم نہ کر جو تو نے ازل سے جماعت احمد پہ کے لئے مقدر کر رکھا ہے اور بالآخر میں اس لئے بھی مغموم ہوا کہ جو دوست اس وقت خدا کے فضل سے سید ھے راستہ پر گامزن ہیں مگر ان کا انجام ہماری نظر سے پوشیدہ ہے۔ایسا نہ ہو کہ ان میں سے بھی کوئی شخص ٹھو کر کھا کر بھٹک جائے اور اپنے ہاتھوں سے اپنا کا تا ہوا سو ت کا ٹ دے بلکہ اے خدا تو ہم سب کو راستی اور صداقت اور ایمان اور اخلاص پر وفات دے اور ہمیں ان لوگوں سے نہ بنا جو تیرے دربار میں پہونچ کر پھر دھتکار دیئے جاتے ہیں اور منعم علیہ بن کر پھر مغضوب ہو جاتے ہیں۔آمین اللهم امین۔پانچ خطر ناک غلطیاں ان خیالات کے بعد میں اس سوچ میں پڑ گیا کہ میاں فخر الدین کا یہ انجام کیوں ہوا؟ اس کے جواب میں میرے دل نے مجھے کہا کہ میاں فخر الدین سے پانچ خطرناک غلطیاں سرزد ہوئیں۔جن کی وجہ سے وہ اس حد تک خدا تعالیٰ کی ناراضگی کا نشانہ بن گئے کہ جب انعام لینے کا وقت آیا تو انعام لینا تو الگ رہا جو کچھ اپنے پاس موجود تھا وہ بھی گنوا بیٹھے وہ غلطیاں یہ تھیں : (1) میاں فخر الدین نے ایک الہی سلسلہ میں اپنے آپ کو منسلک کر کے اور ایک خلافتِ حقہ کے ساتھ بیعت کا رشتہ جوڑ کر پھر اپنے امام اور مقتدا پر بدظنی کی اور بدظنی بھی ایسی کی جو بغیر شرعی ثبوت کے ایک ادنی مومن کے متعلق بھی جائز نہیں۔(۲) وہ اپنے دل میں زہر پیدا ہو جانے کے بعد اور دل میں خلیفہ وقت سے بیعت کا تعلق قطع کر دینے کے باوجود محض ظاہری طور پر اور پردہ رکھنے کے لئے ایک کافی لمبے عرصہ تک اپنے آپ کو بیعت میں شمار کرتے رہے مگر در پردہ وہ اپنے امام کے خلاف کوشش کرتے رہے اور اس طرح انہوں نے اپنے اوپر اس خدائی فتوی کو لے لیا جس کا نام نفاق ہے اور جس کے متعلق قرآنِ کریم میں سخت وعید آیا ہے۔