مضامین بشیر (جلد 1) — Page 210
مضامین بشیر ۲۱۰ ۵۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم رمضان میں خصوصیت کے ساتھ زیادہ صدقہ وخیرات کرتے تھے۔حتی کہ آپ کے متعلق حدیث میں یہ الفاظ آتے ہیں کہ رمضان میں آپ کی حالت صدقہ و خیرات کے معاملہ میں ایسی ہوتی تھی کہ گویا ایک زور سے چلنے والی ہوا ہے جو کسی روک کو خیال میں نہیں لاتی۔اور دراصل روزہ میں ضبط نفس اور قربانی کی جو تعلیم دی گئی ہے اس کا منشا کبھی پورا نہیں ہوسکتا۔جب تک کہ اپنی ضروریات سے کاٹ کر غرباء کی مدد نہ کی جائے۔۶۔چونکہ روزہ کی برکات سے متمتع ہونے کے لئے یہ شرط ہے کہ انسان خدا کی آواز کو سنے اور اس پر ایمان لائے۔اس لئے اس مہینہ میں خصوصیت کے ساتھ قرآن شریف کے اوامر ونواہی کو تلاش کر کے ان کے مطابق عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔اگر احباب غور کریں گے تو انہیں معلوم ہوگا کہ قرآن شریف کے بہت سے احکام ایسے ہیں۔جن پر عمل کرنے کی انہوں نے کبھی کوشش نہیں کی اور نہ ہی ان پر عمل کرنے کا موقع تلاش کیا ہے۔اسی طرح کئی نوا ہی ایسی ملیں گی جن کے متعلق انسان غفلت کی حالت میں گزر جاتا ہے۔پس رمضان میں خاص طور پر قرآن شریف کے اوامر ونواہی کو مطالعہ کر کے ان کے مطابق عمل کرنے کی کوشش ہونی چاہیئے۔تا کہ ان برکات سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایا جا سکے جو خدا کی طرف سے رمضان کے مبارک مہینہ میں رکھی گئی ہیں۔ے۔مگر ایک عمومی کوشش کے علاوہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ انسان کو چاہیئے کہ رمضان میں اپنی کسی خاص کمزوری کو خیال میں رکھ کر اس کے متعلق دل میں یہ عہد کرے کہ وہ آئندہ خدا کی توفیق سے اس سے خاص طور پر بچنے کی کوشش کرے گا۔اس سے بھی احباب کو فائدہ اٹھانا چاہئے۔۔اس زمانہ میں لوگوں نے رمضان کو ضبط نفس اور قربانی کا ذریعہ بنانے کی بجائے اسے عملاً تعیش کا آلہ بنا رکھا ہے۔چنانچہ سحری اور افطاری کے متعلق خاص اہتمام کئے جاتے ہیں اور بجائے کم خوری اور سادہ خوری کے رمضان میں غذا کی مقدار اور غذا کی اقسام اور بھی زیادہ کر دی جاتی ہیں۔یہ طریق رمضان کی روح کے بالکل منافی ہے۔پس احباب کو خاص طور پر کوشش کرنی چاہیئے کہ ان کا رمضان ان کے لئے کسی امتیش کا ذریعہ نہ بنے بلکہ یہ دن خاص طور پر سادگی اور مضبط نفس کی حالت میں گزریں۔امیر المومنین حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے گذشتہ خطبات میں خوراک کے متعلق جو ہدایات دی گئی ہیں ان پر رمضان میں خصوصیت سے عمل ہونا چاہیئے۔۹۔رمضان کا مہینہ خاص طور پر نیک تحریکات کے قبول کرنے کا زمانہ ہے اور اس میں کیا شک