مضامین بشیر (جلد 1) — Page 209
۲۰۹ مضامین بشیر رمضان کی برکات سے فائدہ اٹھاؤ یہ رمضان کا مبارک مہینہ ہے جس میں قرآن شریف کے نزول کی ابتداء ہوئی اور جسے خدا تعالیٰ نے روزے جیسی با برکت عبادت کے لئے مخصوص کیا ہے اور اسی لئے قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ رمضان کے مہینہ میں خدا اپنے بندوں سے بہت قریب ہو جاتا ہے۔یعنی اپنے قرب کے دروازے ان کے لئے خاص طور پر کھولتا ہے اور ان کی دعاؤں کو خاص طور پر سنتا ہے مگر شرط یہ ہے کہ بندہ بھی خدا کی آواز پر کان دھرے اور اس پر ایمان لانے کے حق کو ادا کرے۔پس روحانی رنگ میں ترقی کرنے کے لئے یہ ایک خاص مہینہ ہے اور وہ شخص بد قسمت ہے جو اس مہینہ کو پاتا ہے اور پھر ترقی کی طرف قدم نہیں اٹھاتا۔اسی تحریک کی غرض سے امیر المومنین حضرت خلیفتہ المسیح ایدہ اللہ بنصرہ نے گزشتہ دو جمعوں میں جماعت کو رمضان کی برکات کی طرف توجہ دلائی ہے اور میرے اس نوٹ کی پہلی غرض یہی ہے کہ احباب سے یہ تحریک کروں کہ حضرت امیر المومنین کے خطبوں کو غور کے ساتھ مطالعہ کریں اور ان پر کار بند ہو کر تقرب الہی کے لئے ساعی ہوں۔رمضان کے متعلق مندرجہ ذیل امور خاص طور پر قابل توجہ ہیں۔ا۔جن لوگوں پر روزہ رکھنا فرض ہے اور وہ بیمار یا مسافر نہیں ، وہ ضرور رکھیں اور روزہ کو اس کی پوری شرائط کے ساتھ ادا کریں۔۲۔رمضان میں نماز تہجد کا خاص طور پر اہتمام کیا جائے خواہ باجماعت تراویح کے رنگ میں یا علیحدہ طور پر گھر میں۔۳۔روزہ رکھنا صرف بھو کے اور پیاسے رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ یہ ایام درحقیقت تمام قوائے جسمانی پر گویا ایک بریک لگانے کی غرض سے رکھے ہیں۔پس احباب کو چاہیئے کہ ان ایام میں جملہ نفسانی اور جسمانی طاقتوں کو خاص طور پر ضبط میں رکھیں تا کہ روحانی اور باطنی طاقتوں کو نشونما پانے کا موقع میسر آ سکے اور یہ بھی یاد رکھیں کہ اصل روزہ دل کا ہے۔پس سب سے زیادہ توجہ دل کے خیالات وجذ بات کو پاک کرنے کی طرف ہونی چاہیئے۔۴۔چونکہ اس مہینہ کو خصوصیت کے ساتھ قرآن شریف کے نزول کے ساتھ تعلق ہے۔اس لئے ان ایام میں قرآن شریف کی تلاوت اور اس کے معانی میں تدبر کرنے کی طرف زیادہ توجہ ہونی چاہیئے۔