مضامین بشیر (جلد 1) — Page 208
مضامین بشیر ۲۰۸ ہے۔کیا اب بھی تم آنکھیں نہیں کھولو گے۔خدا نے تم پر ثابت کر دیا کہ وہ لوگ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ کوئی خدا نہیں۔خدا نے تم پر ثابت کر دیا کہ وہ لوگ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ اسلام خدا کا دین نہیں۔خدا نے تم پر ثابت کر دیا کہ وہ لوگ جھوٹے ہیں جو کہتے ہیں کہ احمدیت خدا کی طرف سے نہیں۔کیا اب بھی تم خدا کی گواہی کو قبول نہیں کرو گے؟ اور اے بہار وبنگال کے لوگو! اور اے نیپال کے رہنے والو! تم اس وقت خصوصیت سے خدا کے الزام کے نیچے ہو۔کیونکہ وہ بستیاں تمھاری آنکھوں کے سامنے ہیں جو خدائی عذاب کا نشانہ بنیں۔تم نے خدا کی ایک قہری تجلی کو اپنی آنکھوں سے دیکھا اور اس کے ایک زبر دست نشان کو اپنے سامنے مشاہدہ کیا۔پس اب بھی وقت ہے کہ تم سنبھل جاؤ اور تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے۔خدا کا رحم اس کے غضب پر غالب ہے اور اس کی یہ سنت ہے کہ ایسے عذاب کے بعد پھر اپنی رحمت کا دروازہ کھولتا ہے۔سو اس کے عذاب کو تو تم نے دیکھ لیا۔اب آؤ اور اس کی رحمت کو قبول کرو۔اے ہمارے مسلمان بھائیو اور اے حضرت مسیح ناصری کے نام لیواؤ اور اے ہمارے ہندو ہم وطنو اور اے تمام لوگو جو کسی مذہب وملت سے تعلق رکھنے کا دم بھرتے ہو! دیکھو اور سوچو کہ اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دعویٰ جھوٹا ہوتا اور خدا نے آپ کو مسلمانوں کے لئے مہدی اور عیسائیوں کے لئے مسیح اور ہندؤں کے لئے کرشن اور دوسری قوموں کے لئے آخری زمانہ کا موعود مصلح بنا کر نہ بھیجا ہوتا تو آپ کو ہلاک کر دینے کے لئے خود آپ کا افترا ہی کافی تھا کیونکہ خدا کے ازلی قانون کے ماتحت افترا کے اندر ہی ایسا آتشین مادہ موجود ہے کہ وہ مفتری علے اللہ کو بہت جلد جلا کر راکھ کر دیتا ہے اور اس کے لئے کسی بیرونی کوشش کی ضرورت نہیں ہوتی لیکن تم دیکھتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا سلسلہ باوجود ہر قسم کی مخالفت اور عداوت کے دن بدن بڑھتا چلا جاتا ہے اور ہر میدان میں اللہ تعالی اسے فتح اور کامیابی عطا کرتا اور اس کے دشمنوں کو ناکامی اور نامرادی کا منہ دکھاتا ہے۔دشمن نے اپنا پورا زور لگا کر دیکھ لیا اور کوئی دقیقہ اس سلسلہ کو مٹانے کا اٹھا نہیں رکھا مگر جسے خدا بڑھانا چاہے اسے کون مٹا سکتا ہے۔خدا نے ابتداء سے فرما رکھا تھا کہ ایک درخت ہے جو میرے ہاتھ سے لگایا گیا۔اب یہ بڑھے گا اور پھولے گا اور پھلے گا اور کوئی نہیں جو اسے روک سکے۔سو ایسا ہی ہوا۔مگر خوش قسمت ہے وہ جو اس درخت کو پہچانتا ہے اور اس کے پھل پھول کو حاصل کرنے کے لئے دنیا کی کسی قربانی سے پیچھے نہیں ہتا کیونکہ وہ ابدی زندگی کا پھل ہے ، جس کے کھانے کے بعد کوئی موت نہیں۔پس آؤ اور اس ابدی زندگی کے پھل کو کھا کر خدائی جنت کے وارث بنو۔وَاخِرُ دَعُونَا أَنِ الْحَمدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ۔( مطبوع الفضل ۴ مارچ ۱۹۳۴ء)