مضامین بشیر (جلد 1) — Page 146
مضامین بشیر ۱۴۶ رہی۔حضرت یوست با وجود اپنی ظاہری و باطنی حسن کے حضرت موسی کے ید بیضا اور حضرت مسیح کے دم عیسوی کو نہ پاسکے لیکن اسلام کا مقدس بانی اپنے ہر وصف میں یکتا ہوکر چمکا۔اپنی ہرشان میں دوسروں سے بالا رہا۔کسی نے کیا خوب کہا ہے۔مصرعہ مندرجہ عنوان حسنِ یوسف دم عیسی ید بیضا داری آنچه خوباں ہمہ دارند تو تنها داری یہ شعر بہت خوب ہے بہت ہی خوب ہے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اس سے بھی ارفع ہے۔آپ کے ید بیضا کے سامنے حضرت موسی کا ید بیضا ماند ہے۔آپ کے انفاس روحانی سے حضرت عیسی کے دم عیسوی کو کوئی نسبت نہیں۔میں نے عرض کیا تھا اور پھر کہتا ہوں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حسن و کمال کی حقیقی تصویر صرف اس مصرع میں ملتی ہے۔جو سلسلہ احمدیہ کے مقدس بانی علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان سے نکلا اور میرے اس مضمون کا عنوان ہے۔میرا یہ دعویٰ محض خوش عقیدگی پر مبنی نہیں ہے بلکہ تاریخ کی مضبوط ترین شہادت اس بات کو ثابت کر رہی ہے کہ رہنمایانِ عالم میں صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات والا صفات وہ ذات ہے جس کا ہر وصف ہر خط و خال ہر ادا آپ کے کمال کی دلیل ہے۔اسی لئے قدرت نے آپ کے واسطے وہ نام تجویز کیا جس کے معنی مجسم تعریف کے ہیں۔اور مصرع مندرجہ عنوان کا بھی یہی مفہوم ہے کہ اگر دنیا میں کوئی ایسی ہستی ہے کہ جس کا ہر وصف اسے ہر دوسرے شخص کے مقابلہ میں "محمد یعنی قابل تعریف ثابت کرتا ہوا اور اس کے لئے کسی بیرونی دلیل کی ضرورت نہ ہو تو وہ صرف پیغمبر اسلام ہے۔احسن تقویم کا کامل نمونہ میرے لئے اس نہایت مختصر مضمون میں اپنے اس وسیع دعوی کے دلائل لانے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ اس مضمون میں دلائل کا بیان کرنا میرا مقصد ہے۔میں اس جگہ صرف یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ہمارا رسول مرتبہ کیا رکھتا ہے اور وہ کون سا مقام ہے جس نے اسے اس تعریف کا مستحق بنایا ہے جو مصرع مندرجہ عنوان میں بیان کی گئی ہے۔سو جیسا کہ میں نے اوپر بیان کیا ہے وہ مقام یہی ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وجو د نبوت و رسالت کے جملہ کمالات میں اس قدر ترقی یافتہ ہے کہ کسی ایک وصف یا ایک کمال کو لے کر نہیں کہا جا سکتا کہ وہ آپ کا امتیازی خاصہ ہے۔میں آنحضرت صلی اللہ علیہ